بلوچستان میں بچوں سمیت تمام عمر کے افراد بنیادی حقوق سے محروم ہیں، بی ایس او


بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا یے دنیا میں بچوں کے عالمی دن پر انہیں حقوق فراہم کرنے کے دعوے کئے جاتے لیکن بلوچستان میں بچوں سمیت تمام عمر کے افراد کو بنیادی انسانی حقوق تک فراہم نہیں کی گئی ہے 60 فیصد سے زائد بچے اسکول جانے سے محروم ہے جب تک اسکول پہنچ پانے والی اکثر اداروں میں سیکھنے و سکھانے کی شرح صرف برائے نام حد تک ہے قلیل تعداد میں بچے میٹرک تک پہنچنے کے باوجود 50 فیصد طلباء و طالبات کو بنیادی تعلیمی قابلیت حاصل نہیں ہوسکتی بلوچستان میں انٹرنیشنل اداروں یونسیف ورلڈ بنک سمیت بچوں کے لئے آنے والے پروگرامز صرف سرکاری مافیاء و انکے پے رول پرکام کرنے والے چند کاغذی اداروں کے نذر ہوجاتیہے بچوں کے تعلیم و صحت کے لئے کوئی خاص اقدامات نہیں کئے جاتے فنڈز صرف کرپشن و حکام کے جیبوں میں جارہے ہے اگر ان اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کے اثاثہ جات کا آڈٹ کیا جائے تو کرپشن کے ریکارڈ سامنے آئنگے بچوں کے حقوق کے لئے سرکاری سطح پر و انٹرنیشنل اداروں کے سطح پر کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہے اسکولوں میں داخلہ مہم و دیگر تعلیمی پروگرامز سے نہ داخلہ مہم میں بہتری آسکی نہ ہی اسکولوں کے حالت زار میں تبدیلی آسکا بلوچستان میں محکمہ تعلیم کے مافیاء کے زیراثر ہونے کے انکشافات گذشتہ کئی عرصے سے وزیر اعلی و وزیر تعلیم کررہے ہے جسکا مطلب یہی یے کہ شعبہ تعلیم کو باقائدہ سازش کے تحت مافیاء کے ہاتھوں میں دی گئی ہے تاکہ تعلیم کے حوالے سے یہاں کے لوگوں کو لاشعورکھا جاسکے و نوآبادیاتی تسلط کو برقراررکھا جاسکے تعلیم کے تباہی کے زمہ دار نوآبادیاتی پالیسیاں و قبضہ گیر سوچ یے

اپنا تبصرہ بھیجیں