گیس حکام صوبے کی اسمبلی اور اسکے اراکین کو خاطر میں نہیں لاتے،ایچ ڈی پی

کوئٹہ:ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں صوبائی اسمبلی کے بارہا نٹس لینے قراردادیں لانے تحاریک پاس کرنے اور گیس حکام سے وضاحتیں و جواب طلبیاں کرنے کے باوجود کوئٹہ شہر علمدار روڈ، ہزارہ ٹان و صوبے کے دیگر سرد اضلاع میں سخت ترین سردی کے ایام میں گیس کی مکمل بندش اور پریشرز میں انتہائی شدید کمی کی عوام و صوبہ دشمن اقدام کو موجودہ جنرل مینجر و دیگر متعلقہ عملے کی بدترین غفلت و کوتاہی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ گیس حکام صوبے کے اسمبلی اور اسکے اراکین کو خاطر میں نہیں لاتے صوبے کے عوامی نمائندوں کی باتوں کو تسلیم نہیں کرتے اور اس اسمبلی کی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر اسے بھول جاتے ہیں انھیں وفاقی حکومت صوبے کے عوام کو ذلیل کرنے اور انھیں سخت سردیوں کے ہاتھوں مارنے کی خاطر اس صوبے میں تعینات کرتے ہیں بیان میں کہا گیا کہ ہمیں بتایا جائے کہ اس صوبے کے وسائل کو یہاں کے عوام کے مفاد میں کیوں استعمال نہیں کیا جاتا اس صوبے کے گیس سے پورے ملک کی تمام صنعتیں چلائی جاسکتی ہے مگر اس صوبے کا چولہا اور ہیٹر نہیں چل سکتا یہاں کے عوام کو پانچ دہائی پیچھے دھکیل کر انھیں لکھڑیاں اور کوئلہ جلانے پر مجبور کیا گیا ہے بیان میں کہا گیا کہ صوبے کے سرد اضلاع میں گیس پریشر میں بہتری لانے کیلئے سبی سے پریشر بنایا جاتا ہے مگر یہ لوگ مقامی اور لوکل جگہوں پر موجود پریشر پوائنٹ دکھا کر عوام، عوامی نمائندوں کو دھوکا دیتے ہیں اور گیس کی بجائے ہوا پائپوں سے سپلائی کرکے ہر مہینے ہزاروں روپے کے واجبات صارفین سے وصول کرتے ہیں بیان میں گیس شارٹیج کی زمہ داری گیس عملے پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں گیس چوری یا ڈائریکٹ کنکشن لئے گیے ہیں وہ گیس کمپنی کے عملے کے علم میں لائے بغیر ناممکن ہے اپنی چوری کی سزا غریب عوام کو دینا کسی صورت جائز نہیں بیان میں کوئٹہ کے شہریوں اور صوبے کے سرد اضلاع کے عوام سے گیس حکام کے خلاف بھرپور اور سخت ترین احتجاج کرنے کی توقع کرتے ہوئے کہا کہ یا سردی کے ہاتھوں مریں یا گیس حکام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جانیں دیں مگر اپنے حقوق کے لئے ضرور اٹھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں