بلوچ نوجوانوں نے وطن کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ۔ زبیر بلوچ
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار خاران زون کا سنئیر باڈی اجلاس زیر صدارت مرکزی چیرمین زبیر بلوچ منعقد ہوا اجلاس کے مہمان خصوصی صوبائی صدر بابل ملک بلوچ، سی سی ممبران علی نواز بلوچ، آصف بلوچ، صوبائی جوائنٹ سیکریٹری عید محمد بلوچ ،ڈپٹی آرگنائزر محسن عزیز بلوچ ، سابقہ سی سی ممبر غنی حسرت بلوچ ، ارشاد بلوچ و دیگر سینئر رہنماؤں نے شرکت کی ۔
اجلاس سے مرکزی چیرمین زبیر بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو وفاق و ریاستی اداروں نے تجربہ گاہ بنا دیا ہے بلوچ کو تعلیم سے محروم رکھا گیا، لاپتہ افراد کا مسلہ ہو یا پھر بلوچ کے ملکیت و حاکمیت کو تسلیم کرنے کا بات ہو ۔ بلوچ کے مرضی کے بغیر وفاق بلوچ وطن کے وسائل کو لوٹ رہا ہے اور وسائل کا بے دریغ استعمال کررہا ہے و بلوچ وطن پہ بلوچ کے مرضی و منشاء کے بغیر استعصالی میگا پراجیکٹس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاے گا ۔ گزشتہ کہی برسوں سے ریاست مختلف طریقوں سے بلوچستان میں کے حالات خراب کرنے اور مزید تجربہ کرنے کے لئے ریاستی پارٹی و مصنوعی سردار بنانے میں مصروف رہا ہے جس سے پھر آغوا براے تاوان و چوری ڈکیتی میں نا صرف اضافہ ہوگا بلکے یہ تجربہ کار و پیشہ ور مجرم ہے جن کو پھر سے ہائیر کیا جارہا ہے یہی لوگ بلوچستان کے اصل مجرم ہے ۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر نے کہا بلوچستان یونیورسٹی خاران میں بلوچی ڈیپارٹمنٹ کا نا ہونا ایک سوالیہ نشان ہے بیورو کریسی و اسٹیبلشمنٹ اپنا منافقانہ رویہ ترک کرے ہمیں چاہینیز زبان سیکھانے کی بات کی جارہی ہے اور یہاں ہم اپنے زبان میں نا پڑھ سکتے ہے اور نا بولنے کی اجازت ہے استعماری قوتوں نے ہمارے کلچر ، ہمارہ زبان اور ہمارہ وطن سے بیگانہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بلوچ نوجوان اپنے زبان اپنے ثقافت کو فروغ دینے میں کردار ادا کرے اور ہفتہ وار اسٹیڈی سرکل کا انعقاد کرے ۔


