60 سالہ بیوہ کے ریپ اور قتل کے ملزم کی سزائے موت کالعدم قرار

عدالت عظمیٰ نے 60 سالہ بیوہ کو ریپ اور قتل کے ملزم محمد حنیف کی سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بری کردیا۔

سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلٹ بینچ نے کی جس میں سپریم کورٹ نے سزائے موت کے ملزم محمد حنیف کو 14 سال بعد بری کردیا۔

واضح رہے کہ محمد حنیف کے خلاف 2006 میں مری میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
دوران سماعت سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم نے 60 سالہ زیارت بی بی کو ریپ کے بعد قتل کیا اور متاثرہ خاتون کی دو رشتے دار خواتین نے ملزم کو فرار ہوتے دیکھا تھا۔
جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ بظاہر واقعہ جیسا بتایا جا رہا ہے ویسا لگتا نہیں اور پولیس تفتیش کے مطابق ملزم کا خاتون کی طرف آنا جانا تھا۔
جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ کسی کی تضحیک نہ ہو اس لیے زیادہ بات نہیں کر سکتے۔
عدالت عظمیٰ کے جسٹس قاضی امین نے نوٹ میں کہا کہ ایسی وجوہات نہیں تھیں کہ ملزم خاتون کو قتل کرتا اور ایف آئی آر کے مطابق خاتون کو پھندا لگا کر قتل کیا گیا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ جبکہ میڈیکل شواہد میں پھندا لگانے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم محمد حنیف کو سزائے موت دی جسے شریعت کورٹ نے برقرار رکھا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں