گوادر میں باڑ لگانے کا نوآبادیاتی منصوبہ قبول نہیں، بی ایس او

کوئٹہ،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے گوادر شہر کو بلوچستان علحیدہ کرنے کے لئے باڑ لگانے کا نوآبادیاتی منصوبہ کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی بلوچ قوم کو مظالم کا نشانہ بنا کر سیاسی پابندیوں کے اصل مقاصد نوآبادیاتی تسلط کے زریعے سامنے آریے بلوچ قوم کو تیسرے درجے کا شہری تک تسلیم نہیں کی جارہی ہے جبکہ غدار و دہشت گرد قرار دے کر نوجوانوں کو سیاسی آواز بلند کرنے کا لاپتہ کیا جارہا ہے گوادر فینسنگ منصوبے سے وہ تمام اوچھے ہتھکنڈے واضح ہوچکے ہے اگر نام نہاد ترقی گوادر و بلوچ قوم کے لئے ہوتی تو گوادرکو مقامی آبادی کے لئے جیل نہیں بنایا جاتا جسطرح اب ایک مکمل آبادی کو جیل میں تبدیل کیا جارہا یے یہی حربہ پہلے بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں اپناہی گئی گواررمیں فینسنگ و جیل بنانے کے لئے بجٹ ہے لیکن گوادر کے مقامی آبادی کو پینے کے صاف پانی تک فراہم نہیں کی جاسکی بلوچ قوم ایسے سازشوں کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی یہ منصوبہ انسانی نقل و عمل آئین پاکستان و دنیا کے تمام انسانی قوانین کے خلاف ہے انسانی حقوق کے اداروں کو اس پر بھرپور آواز بلند کرنا ہوگا پہلے بھی اسطرح کے منصوبوں کے تحت بلوچستان بھر میں مسخ شدہ لاشوں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا گیا اب جب بلوچستان کے نام پر ایک اور پیکج کا اعلان کیا گیا اسکے نتائج گوادر کو باڑ لگا کر مکمل طور پر جیل میں تبدیل کرنے کے سازش کی جارہی ہے تاکہ وسائل کو لوٹ کر سیکیورٹی کے نام پر مقامی آبادی کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا جائے ان حربوں کا بلوچ قوم کو متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں