سپریم کورٹ نے پائلٹس کے جعلی لائسنس سے متعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی سے رپورٹ طلب کر لی
اسلام آباد :سپریم کورٹ نے پائلٹس کے جعلی لائسنس سے متعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی سے رپورٹ طلب کر لی۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پی آئی اے خسارہ ازخود نوٹس پرکیس کی سماعت کی۔سپریم کورٹ نے پائلٹس کے جعلی لائسنس سے متعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی سے رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے کہاکہ پائلٹس کے لائسنسز سے متعلق تفصیلی رپورٹ فراہم کی جائے، سول ایوی ایشن کی رپورٹ کو حکم نامے میں شامل کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنائیں، وکیل ارشد محمود ملک نعیم بخاری نے کہاکہ سی ای او پی آئی اے ارشد محمود ملک پاک فضایہ سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پی آئی اے کو چلانے کیلئے پیشہ ورانہ صلاحیت کا حامل شخص چاہئے۔ نعیم بخاری نے کہاکہ کرونا وائرس کے باعث دنیا کی کئی ایئر لائنز بیٹھ گئی ہیں،پی آئی اے بھی کرونا وائرس کے باعث بیٹھ گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پی آئی اے تو کرونا سے پہلے ہی بیٹھ چکی تھی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پی ٹی وی چیئرمین کا عہدہ رکھتے ہوئے آپ بطور وکیل کیسے پیش ہوسکتے ہیں۔ نعیم بخاری نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی وی کا عہدہ اعزازی ہے میں نے تنخواہ اور مراعات لینے سے انکار کر دیا ہے۔ نعیم بخاری نے کہاکہ سابق چیئرمین پی ٹی وی کے پاس پی ٹی وی کی تین گاڑیاں تھیں،پاکستان بار کونسل سے وکالت کے معاملے پر رجوع کیا ہے،پاکستان بار کونسل جلد اپنی رائے دے گی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پی آئی اے کی بحالی کیلئے ارشد محمود ملک نے کیا اقدامات اٹھائے۔ عدالت نے عدالت نے پی آئی اے کی رپورٹ مسترد کر دی۔ نعیم بخاری نے کہاکہ پی آئی اے کے 2000 ملازمین کو فارغ کیا گیا ہے،ساڑھے چار ہزار ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی پیشکش کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جو لوگ نکالے گئے انکی جگہ نئے کتنے لوگ رکھے گئے۔ سی ای او پی آئی اے ارشد محمود ملک نے کہاکہ کوئی نہیں تعیناتی نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں معلوم ہے جو لوگ نکالے گئے انکی جگہ نئے لوگ رکھے جائیں گے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پائلٹس کی ڈگریوں کے بیان کے باعث اہم ملکوں میں پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگی،۔ سلمان اکرم راجہ وکیل پی آئی اے بورڈ نے کہاکہ جانچ پڑتال کے بعد 110 پائلٹس کی ڈگریوں کو درست قرار دیا گیا 15 پائلٹس کو فارغ کیا گیا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ 16 پائلٹس کی ڈگریوں کی پڑتال کی جارہی ہے۔ نعیم بخاری نے کہاکہ پی آئی اے نے 480 ارب روپے قرضہ ادا کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پی آئی اے کی رپورٹ میں مستقبل کا کوئی بزنس پلان نہیں دیا گیا۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ برس جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔


