پی ڈی ایم غیر فطری اتحاد ہے،بہت جلد ٹوٹ جائیگا،مولانا شیرانی

لو رالائی:جے یو آئی کے مرکزی رہنما اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہاہے کہ پی ڈی ایم میں شامل ہرسیاسی جماعت کے اپنے اپنے مفادات ہیں یہ غیر فطری اتحاد ہے جو کہ بہت جلد ٹوٹ جائیگا کیونکہ انکا کوئی نظریہ ہمیں نظر نہیں آرہا صرف کرسی تک پہنچنے کیلئے ہر کوئی بھاگ دوڑ میں مصروف ہے۔یہ بات انہوں نے میڈ یا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ ملک توڑنے کا ماحول بنانے کی سازش کررہے ہیں وزیر اعظم عمران خان اور انکی حکومت کو پی ڈی ایم سے کوئی خطرہ نہیں حکومت اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرکے آئندہ عام الیکشن میں بھی کامیابی حاصل کر سکتی ہے ا نہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم استعفے دینا چاہتی ہے تو دیر کس بات کی ہے حکومت نے تو پی ڈی ایم کو آفر کی ہے کہ وہ جلد استعفے دیکر عمرے کی ٹکٹ لیکر مکہ اور مدینہ کی زیارت کریں وہ ضرور آفر سے فائد ہ اٹھائیں میرا نہیں خیال کہ پی ڈی ایم استعفے دیگی یہ صرف عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے یہ سب کچھ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم عدلیہ الیکشن کمیشن اور میڈیا کی آزادی کی بات کرتے ہیں کیا ان جماعتوں میں عدل آزادی اور جمہوریت ہے استعفی دیکر کیایہ اپنا الگ الیکشن کمیشن بنائینگے انہوں نے کہا کہ جے یو ائی پر قبضہ گیری کرنے اور اسے موروثی جماعت میں بدلنے کے خلاف انہوں نے ہمیشہ جماعت کے اداروں میں اوراب کھل کر اسکی مخالفت شروع کر دی ہے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بذات خود ایک سلیکٹر ہیں وہ عمران خان اور دوسروں کو کس طرع سلیکٹرز کا طعنہ دیتے ہیں میرا بنیادی اور اصولی اختلاف مولانا فضل الرحمان سے جھوٹ بولنے پر ہے انہوں نے سارے علماء کو بھی جھوٹ پر لگا دیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ فساد کے نام پر جنگ کے شروع سے ہی مخالف ہیں انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حامی ہیں یہ ایک بین الاقوامی ایشو ہے انہوں نے کہا کہ 19 47 میں امریکہ نے اسرائیل کے مغربی حصے کو اسرائیل کا علاقہ ڈیکلئیر قرار دیا ر اور فلسطین کے مشرقی والے حصے کو فلسطین کا علاقہ ڈیکیلئر قرار دیا جبکہ یروشلم کو اوپن شہر قرار دیا اسرائیل نے اس پالیسی کو اپنا لیا جبکہ فلسطین نے جنگ کا راستہ اپنا لیا اب بھی فلسطین اپنا حصہ لیکر دعویٰ جاری رکھے اب بھی پانی سر سے نہیں گزری انھیں مل بیٹھ کر مسئلہ کو حل کرنا چاہیئے تو اسکا سب سے زیادہ فائدہ خود فلسطین کو ہوگا انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی ایک حقیقت ہے لیکن اب آٹے چینی سمیت دیگر اشیاء میں کمی بھی آرہی ہے انہوں نے کہا کہ خطہ میں جنگ امریکہ اپنے مفادات کیلئے لڑ رہا ہے قوم پرست اور اسلام پرست اسمیں کیوں اپنے بچوں اور اہل و عیال کے قتال کا سبب بن رہے ہیں انہوں نے کہا کہ دنیا اسلامی وحدت کے جانب بڑ رہا ہے علماء اور قوم پرست تفریق ڈالنے کی کوشش نہ کریں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یو این میں اپنے نئے آفیشل نقشے میں بھارتی علاقے لداخ اور جموں کشمیر اور بھارت نے پاکستان کے علاقے گلگت بلدستان اور ازادکشمیر کو اپنا حصہ قرار دیا اب یہ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ یہ دونوں ممالک ہیں یا جاگیریں ہیں انہوں نے کہا کہ کرونا ء کوئی مرض نہیں ہے یہ بھی نیو ورلڈ آرڈر کا ایک رہسل ہے جسکا مقصد دنیا پر ایک مذہب کا راج لگانا ہے انہوں نے کہا کہ البتہ عمران خان نے ملک میں کورونا ء کے معاملے پر مکمل لاک ڈاون نہ لگا کر اچھا فیصلہ کیا جس سے کاروبار متاثر ہونے سے بچ گیا انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کو ہم ہی اسپانسر کرتے ہیں اور الزام مقتدد قوتیں بعد میں مذہبی لوگوں پر لگا کر اپنے آپکو اس بری الزمہ قرار د ے دیتے ہیں وہ ہر قسم کی مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں اسلام میں اسکی کوئی گنجائیش نہیں ہے ہمیں اسلامی وحدت کے نام پر یکجا اور متحد ہونا پڑیگا اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا اپشن نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں