ترکی میں خواتین قیدیوں کو برہنہ کرکے تفتیش کرنے کا انکشاف
انقرہ:ترکی میں حکم راں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے بعض رہ نماں نے اس امر کی تردید کی ہے کہ جیلوں میں خواتین کو برہنہ کر کے ان سے تفتیش انجام دی گئی۔ تاہم اس معاملے کے سبب ترک حکام کو وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق گزرے دنوں کے دوران ترکی میں سابقہ خواتین قیدیوں کے ایک گروپ نے سوشل میڈیا پر خوف ناک انکشافات پر مبنی وڈیوز پوسٹ کیں۔ ان وڈیوز میں مذکورہ خواتین نے تصدیق کی ہے کہ حراست کے دوران تفتیش میں انہیں ذلت آمیز طریقوں کا نشانہ بنایا گیا۔ خواتین نے صدر رجب طیب ایردوآن کی حکمراں جماعت پر کڑی تنقید بھی کی۔خاتون وکیل بتول البائے کے مطابق وہ ان درجنوں قیدیوں میں شامل تھیں جن کو اس ذلت آمیز تفتیش کا نشانہ بننا پڑا۔بتول نے انکشاف کیا کہ اسے اپنے والد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں بتول کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ اسے برہنہ کر کے حکم دیا گیا کہ وہ تین بار اٹھک بیٹھک کرے۔بتول کے مطابق وہ جیلوں کے اندر اس نوعیت کی خلاف ورزیوں کے وجود کا انکار کرنے والے ہر سیاست دان اور حکمراں جماعت کے رہ نما کو چیلنج کرتی ہے


