وزیراعظم صاحب اگر آپ کے پاس عوام کے مسائل کا حل نہیں تو استعفیٰ دیں گھر جائیں،بلاول

کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے ملیر ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ وفاق میں ناجائز، نالائق اور نااہل حکومت مسلط ہے،جس کا بوجھ عوام اٹھا رہی ہے، حکومت کو تین سال ہونے کو ہیں لیکن وزیراعظم صاحب اب بھی ٹریننگ پر ہیں اور معلوم نہیں کہ یہ ٹریننگ کب ختم ہو گی،وزیر اعظم کی ٹریننگ میں جو عوام کا حشر ہوا اسکا ہم کس سے پوچھیں، یہ باتیں پاکستان کے ساتھ مذاق ہے، اگر ہمارا وزیر اعظم تھوڑا بہت اہل ہوتا تو حالات آج ایسے نہیں ہوتے،وزیراعظم صاحب اگر آپ کے پاس عوام کے مسائل کا حل نہیں تو استعفیٰ دیں اور گھر چلے جائیں، ہمارے پاس حل ہے کہ عوام کو ان مشکل حالات سے کیسے نکالا جا سکتا ہے،جن کا سالوں سال کا نااہلی کا ریکارڈ ہے وہ ہمیں لیکچر دے رہے ہیں کہ ہم نالائق صوبائی لوگ ہیں جو ریونیو پیدا نہیں کر سکتے، جس دن صوبوں نے حساب مانگنا شروع کردیا آپ کے پاس کچھ نہیں رہے گا،وفاقی حکومت کی جانب سے ہمیں پورا حق نہیں دیا جا رہا، نیا این ایف سی ایوارڈ نہیں لایا گیا، لیکن ہم نے آرام سے نہیں بیٹھنا ہے، عوام کے حق کیلئے لڑتے رہیں گے۔وہ جمعرات کو کراچی ملیر ایکسپریس وے کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔بلاول بھٹو زرداری نے ملیر ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور وزیربلدیات سندھ سید ناصر شاہ نے منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی۔ملیر ندی کے بائیں کنارے تعمیر ہونے والا 39 کلومیٹر پر محیط ملیر ایکسپریس وے چھ لین روڈ ہوگا۔ملیر ایکسپریس وے کورنگی روڈ ڈی ایچ اے سے شروع ہوگا، اختتام کاٹھور پر ہوگا۔ملیر ایکسپریس وے پر پیدل چلنے والوں کے لئے نو مقامات ہوں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ کراچی کیلئے ایک اور بہت بڑے منصوبے کی بنیاد رکھی ہے اور ہم بے نظیر کے نظریہ کولے کر آگے بڑھ رہے یں، بے نظیر نے ہی پبلک،پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد رکھی تھی۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سندھ کی حکومت وفاق سے بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں آگے ہے، ہم تھرکول پراجیکٹ لگایا، جس سے وہاں ایک انقلاب آیا ہے، خواتین، انجینئرز اور ٹرک ڈرائیور تک کام کر رہے ہیں، وہ نوجوانوں کو روزگار ملا، سندھ تھرکول سے پورے صوبے اور ملک کو بجلی پہنچ رہی ہے اور سب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بلاول زرداری نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ نے صحت اور تعلیم کے میدان میں بھی ہمیں بہت مدد فراہم کی ہے، جس سے بچوں اور خواتین کے ہسپتال بنائے گئے ہیں جبک آج ملیر ایکسپریس وے سے کراچی کے سفید پوش مزدوروں اور غریب طبقے کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ہمیں پورا حق نہیں دیا جا رہا ہے، صوبوں کے حق جو 18 ویں ترمیم کے بعد وہ پیسے نہیں دیتے ہیں، نیا این ایف سی ایوارڈ نہیں لایا گیا، لیکن ہم نے آرام سے نہیں بیٹھنا ہے، عوام کے حق کیلئے لڑتے رہیں گے اور ہم نے یہ نہیں سوچا ہے کہ وفاق ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہا ہے، ہمیں عوامی مسائل کا حل نکالنا ہے اور ان حل میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے ہیں، سندھ حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو غیرملکی جریدے نے دنیا میں چھٹا نمبر دیا ہے، آج بھی ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے ملک اور صوبے کو آگے لے جا سکتے ہیں، اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دیں گے کیونکہ معیشت مشکل حالات میں ہیں، اس لئے ہماری کوشش ہے کہ عوام کے حق کیلئے کام کریں۔ بلاول نے کہا کہ آج ملک میں بدقسمتی یہ ہے کہ وفاق میں ایک ایسی حکومت مسلط کی گئی ہے جو نا صرف ناجائز حکومت ہے، نالائق اور نااہل ہے، جس کا بوجھ عوام اٹھا رہی ہے، اس حکومت کو تین سال ہونے کو ہیں لیکن سنا ہے کہ وزیراعظم صاحب اب بھی ٹریننگ پر ہیں اور معلوم نہیں کہ یہ ٹریننگ کب ختم ہو گی اور ٹریننگ میں جو عوام کا حشر ہونا ہے اس کا ہم کس سے پوچھیں گے، ہم نے تو سنا تھا کہ بائیس سال سے تیاری کر رہے تھے، نوے دن میں مشکلات کو ختم کرنا تھا لیکن تین سال بعد کہہ رہے ہیں کہ ٹریننگ چل رہا تھا، یہ باتیں پاکستان کے ساتھ مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اتنے وسائل ہیں کہ اگر وزیراعظم تھوڑا لائق ہوتا تو ملک کے یہ حالات نہیں ہوتے، بدقسمتی سے خطے میں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی پیچھے ہیں۔ بلاول زرداری نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ ملک کے معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں لیکن ہم ان کو کیاجواب دیں جو خود کشی پر مجبور ہو چکے ہیں، بچوں کی دوائیاں نہیں خرید سکتے ہیں نہ سکول جا سکتے ہیں اور کھانے کی اشیائے لے سکتے ہیں، بجلی، گیس کے مہنگے کمرتوڑ بل آتے ہیں لیکن نہ بجلی آتی ہے نہ ہی گیس آتی ہے جبکہ ان عوام کیلئے اس حکومت کے پاس کیا ہے، وزیراعظم نے انٹرویو کے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ملک میں ایسے حالات ہیں تو وہ کیا کرے، اس کے جواب سے مجھے بھی حیرانگی ہوئی جبکہ جو بھی مشکل حالات آئے ہیں تووزیراعظم کا ایک جواب ہوتا ہے کہ میں کیا کروں، ہمیں یاد ہے کہ کشمیر کے تاریخی حملے پر بھی جواب تھا کہ میں کیا کروں اور اب عوام کے مسائل حل نہ کرنے پر بھی کہہ رہے ہیں کہ میں کیا کروں، میرے یہی کہتا ہے کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ میں کیا کروں تو وہ استعفیٰ دیں، گھر چلے جائیں کیونکہ ہمارے پاس حل ہے اور ہم جانتے ہیں کہ عوام کو مشکل سے کیسے نکالا جا سکتا ہے، ہمارا ماضی ہے، ہم معاشی بحران کا سامنا کیا اور دہشت گردی کاسامنا کیا لیکن ایک دن بھی عوام کو لاوارث نہیں چھوڑا اور یہ نہیں کیا کہ کیا کروں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے خزانہ خالی ہونے باجود ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں، دہشت گردی کا مقابلہ کیا، سپاہیوں کی تنخواہوں میں 175فیصد اضافہ کیا کیونکہ جہاں ہمارے سپاہی اپنی جان کی قربانی دے رہے تھے تو وہاں انکو یہ یقین ہو کہ ان کے گھر والے سکون میں ہیں۔ بلاول زرداری نے کہا کہ آج وفاق کے نالائق اور نا اہل کہتے ہیں ہم صوبے نہیں چلا سکتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ صوبے کی خدمت کیسے کرنی ہے اور آپ جیسے نالائق سے ہم کو مدد کی ضرورت نہیں ہے، وفاق صوبے کو گیس کا مکمل حق ادا نہیں کر سکتا ہے، جنہوں نے سال ہا سال اہداف پورے نہیں کئے، وہ بھی آج ہمیں لیکچر دیتے ہیں۔ بلاول زرداری نے کہا کہ ہمارا ایک کام رہتا ہے ہم نے اس نالائق، نا اہل کو بھاگنا ہے، سلیکٹڈ وزیراعظم کو بھاگنا ہے اور وہ صورتحال لے کر آنا ہے جس سے عوامی حکومت آئے، جو عوامی مشکلات کے کام کرے، لیکن جب آپ کسی اور کے اشاروں سے حکومت میں آتے ہیں تو پہلے ان اشاروں والے کیلئے کام کرتے ہو اور عوامی مسائل کو تو یہ نہیں دیتے ہو، پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کا سوچتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے تمام ممبران اسمبلی نے اپنے استعفے مجھے دے رہے ہیں اور اس بات کا ثبوت ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کے کمٹمنٹ ہے، میرے سارے ساتھی ساتھ کھڑے ہیں اور ڈرنے والے قوتوں کو کہتا ہوں کہ میرے ساتھیوں کے ساتھ یہ سلوک بند کیا جائے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کون یہ کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے جبکہ مجھے مجبور نہ کریں کہ میں سب کو ایک ایک کر کے قوم کے سامنے بے نقاب کروں کہ ان کا مقصد کیا ہے اور طریقہ کار کیا ہے، ہم چاہیے کہ پاکستان میں ایسا لیول پلینگ فیلڈ ہو جہاں عوامی خدمت ہو سکے، عوامی نمائندوں کو بلیک میلنگ نہیں چل سکتا ہے۔(اح+م ا)

اپنا تبصرہ بھیجیں