بلوچستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں نے بہت سے شعبوں کو متاثر کیا ہے،زبیدہ جلال
کوئٹہ:وفاقی وزیر دفاعی امور زبیدہ جلال، حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی، صوبائی وزیر کیو ڈی اے مبین خان خلجی، پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور بلوچستان دنیش کمار، چیف ایگزیکٹیو آفیسر بی آر ایس پی نادر گل بڑیچ، وزیراعلیٰ بلوچستان کے کوآرڈنیٹر بلال کاکڑ، پاکستان یوتھ پیس موومنٹ کے چیئرمین ارباب ناصر حیدر کاسی، بلوچستان فورم آف انوائرمنٹل جرنلسٹس کے صدر ظاہر خان ناصر و دیگر نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی کے خاتمے اور ماحول کو صاف شفاف بنانے کے لئے آنے والے شجرکاری مہم میں اضافہ ناگزیر ہے، سول سوسائٹی اور صحافی تنظیموں کی جانب سے ماحول کی بہتری کے لئے اقدامات قابل تحسین ہیں، وفاقی و صوبائی حکومت ماحولیات کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھارہی ہیں آنے والے وقت میں اس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئیں گے، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے جس سے نمٹنے کے لئے سب کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام، بلوچستان فورم آف انوائرمنٹل جرنلسٹس اور پاکستان یوتھ پیس موومنٹ کی اشتراک سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس مو قع پر ڈاکٹر ظہور بازئی سنیئر اینکر حسن خان،سنیئر اینکر ڈاکٹر سجاد بخاری، سنیئر اینکر شکیل،سینئر صحافی وطن یار خلجی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے کہاکہ اس وقت ماحولیات ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ماحولیا ت کی بہتری کے لئے ملک بھرمیں شجرکاری مہم شروع کی جو کامیاب کے ساتھ جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک ماحول صاف ستھرا نہیں ہوگا اس وقت تک بیماریوں کا خاتمہ ممکن نہیں اگرچہ دنیا بھر کو ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے تاہم موجودہ حکومت ملک میں ماحولیات کی بہتری کے لئے بھر پور اقدامات اٹھارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں نے بہت سے شعبوں کو متاثر کیا ہے جس کے براہ راست اثرات عام عوام پر مرتب ہورہے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات سے متعلق نہ صرف عوام میں آگاہی فراہم کی بجائے بلکہ اس سلسلے میں تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان فورم آف انوائرمنٹل جرنلسٹس صوبے کے صحافیوں کو ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے منظم کرکے ایک اچھا اقدام اٹھایا ہے جس کے دورس اثرات مرتب ہوں گے۔ سمینار کے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ خوشی کا مقام ہے کہ یہاں پر صوبے بھر کے صحافی سول سوسائٹی اور ہر مکتبہ فکر کے افراد اکھٹے ہو کر بلوچستان میں ماحولیاتی مسائل پر بات کررہے ہیں بلوچستان میں اس وقت زیر زمین پانی کی سطح گر چکی ہے اور بارشیں برف باری معمول کے مطابق نہیں ہورہے ہیں اس مقصد کے لئے ڈیموں کی تعمیر پر فوری توجہ کی ضرورت ہے بلوچستان میں پانی کی کمی کی وجہ سے زرعی شعبے کو بھی نقصان ہوا ہے جب کہ چراگاہیں خشک ہونے کی وجہ سے لائیو سٹاک کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں لوگوں میں درخت لگانے جنگلات کی تحفظ کے شعور و آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اس مقصد کے لئے حکومت سول سوسائٹی میڈیاعلما کرام اور سب کو ملکر کرکے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بلوچستان کو ماحولیاتی مسائل سے نکالنے اور ماحولیات کو تحفظ دینے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے حکومت بلوچستان صوبے میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں۔ حکومت بلوچستان صوبے میں آنے والے شجر کاری پر بھرپور توجہ دے رہی ہے تاکہ صوبے میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جاسکیں کیونکہ زیادہ درخت لگانے سے ہم ماحولیاتی آلودگی پر قابو پاسکتے ہیں۔تقریب میں بلوچستان بھر سے آئے ہوئے صحافیوں میں مہمانان گرامی نے شیلڈز اور تعارفی اسناد تقسیم کیے۔


