پی ڈی ایم قیادت مسئلہ بلوچستان سرفہرست رکھے، مہیم بلوچ

کراچی (نمائندہ انتخاب) سینئر سیاسی طالب علم اور سابق سینیٹرمہیم خان بلوچ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ بلوچستان ساحل و وسائل کے حوالے سے دنیا کے امیر ترین سرزمین میں شمار ہوتا ہے لیکن افسوس در افسوس گزشتہ 70 سالوں سے بلوچ قوم اپنے ساحل وسائل سے 99 فیصد محروم ہے اور آج بلوچستان کے بلوچ عوام دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سب سے بڑھ کر 50 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لیکر سے نیچے کی زندگی بسر کر رہا ہے یقینا اس پالیسی کے خلاف گزشتہ 70 سالوں سے بلوچ قوم اپنی جمہوری سیاسی اور قومی آواز کو سامنے رکھتے ہوئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ 70 سال کی تاریخ واضح ہے کہ بلوچوں پر کیا کیا گزری ہے جس کی بہت بڑی کہانی ہے حال ہی میں کریمہ بلوچ کا واقعہ بھی بلوچ قوم کی جدوجہد سے وابستہ ایک واقعہ ہے اس کو کوئی بھی بلوچ کی تاریخ سے دور نہیں رکھ سکتا میں بلوچستان کے سائل وسائل سے متعلق بالا حکام کو آگاہ کروں کہ ایک طرف سندک پروجیکٹ جو 10 سال کا تھا بغیر کسی کو پوچھے 5 سال توسیع مل رہی ہے اور سرعام روڈوں پر لوڈ گاڑیاں جارہی ہیں دوسری طرف ریڈوڈک کا علاقہ وہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ آسٹریلیا چلی اور کینیڈا کی جو مشترکہ کمپنی تھی اسلام آباد میں تمام کاغذات مکمل کرکے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے سامنے رکھ دیئے اور ان کو حکم ہوا کہ آپ اس پر دستخط کریں۔واضح الفاظ سے دستخط کرنے سے انکار کر دیا اس کے بعد دوسرے مینڈیٹ سے تعلق رکھنے والوں نے اس کو لبیک کیا اسلم رئیسانی کے انکار کے بعد کمپنی نے بین الاقوامی عدالت میں کیس دائر کیا۔ گزشتہ دنوں کے اخبارات میں یہ موجود ہے کہ 6 ارب ڈالر جو جرمانے کا فیصلہ کیا جو کمپنی کیلئے ہوا ہے اس پر سختی سے عمل درآمد کی تاکید کی گئی ہے نمبر 2 میں یہ بھی کیونکہ جہاں تک سی پیک کا بڑا ڈھنڈورا ہو رہا ہے میں جب سینیٹر تھا اس دوران بھی میں نے اپنے موقف کے حوالے سے سی پیک کے بلوچستان کو پوچھے بغیر جوباتیں ہو رہی تھیں مجھے اس پر اختلاف رائے تھا اور میں اکثر وبیشتراس بارے میں اپنی رائے بھی دیتا رہتا ہوں۔ حال ہی میں 5 اپریل بول چینل کے حوالے سے 7، 8 بجے ایک گھنٹے کا پروگرام تھا اور اس دوران سی پیک کے حوالے سے گوادر پلان پر بحث شروع ہوئی تو واضح الفاظ میں یہ بات کہی گئی کہ گوادر ماسٹر پلان گوادر تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ اورماڑہ سے لے کر جیونی تک ہے اس میں یہ بات بھی شامل کر لو کہ 4 سال پہلے مجھے لندن میں اپنے دوست کے حوالے سے مجھے موقع ویڈیو لنک کے ذریعے امریکن صحافی سے بات کرنے کا موقع ملا امریکن صحافی نے آخر میں واضح الفاظ میں یہ سامنے رکھا کہ بنیادی طور پر سی پیک میں ایک شق شامل ہے اور اس شق کیا ہے کہ معلومات نہیں ہے اس شق میں چائنہ اور پاکستان کے درمیان یہ فیصلہ بھی موجود ہے کہ آنے والے وقت میں چائنہ اپنی 2 کروڑ عوام پاکستان باالخصوص بلوچستان بھی لائے گا اور یہ بات بھی انہوں نے اشارتاً کیا اگر شق کی طرف عمل درآمد پر کوئی عمل ہوا تو یقینا ایک تیسری عالمی جنگ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں حاصل ہوگی۔ میں ایک سیاسی طالب علم کی حیثیت سے یہ بات بھی کہتا ہوں کہ حزب اختلاف جو PDM جن جن نقاط پر مبنی ہے یقیناً اچھی بات ہے PDM کے قائدین اپنے جلسوں میں مثبت باتیں بھی کرتے ہیں لیکن یہ ان کو زحمت دیتا ہوں کہ گزشتہ 70 سالوں سے بلوچستان کا مسئلہ یہ سرفہرست رہا ہے لہٰذا PDM قیادت کے وہ اپنے تمام نقاط پروگرام میں بلوچستان کے مسئلے کو سرفہرست رکھے کیونکہ بغیر بلوچستان کے مسائل سرفہرست رکھنے کے بغیرPDM کا مشن پروگرام پورا مکمل نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں