گوادرباڑ منصوبے کیخلاف نیشنل پارٹی نے بھی عدالت سے رجوع کرلیا
نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا کہ نیشنل پارٹی نے گودار میں باڑ لگانے کے خلاف عدلیہ سے رجوع کرلیا۔نیشنل پارٹی کے مرکزی قانون سیکرٹری راحب بلیدی ایڈوکیٹ نے لائر ونگ کے ہمراہ قیادت کے فیصلے روشنی میں بلوچستان بار کونسل کے آئینی پٹیشن کا حصہ بننے کےلیے درخواست جمع کردی ۔نیشنل پارٹی اصولی موقف رکھتی ہے کہ گودار میں باڑ لگانا انسانی آزادی پر قدغن لگانے کے زمرے میں آتا ہے۔جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور گوادر کی تقسیم ہے۔نیشنل پارٹی گوادر کی تقسیم اور عوام کی نقل و حرکت میں پابندی کے خلاف ہر فورم استعمال کریں گی۔بیان میں کہا گیا کہ کھٹ پتلی صوبائی حکومت باڑ کی تنصیب کو سیف سٹی پروجیکٹ قرار دے رہی ہے۔غاصبوں نے ان نام نہاد حکمرانوں کو اقتدار اسی لیے سونپا ہے کہ وہ بلوچستان کی حق ملکیت سے دستبردار ہونے پر سر کو جھکانے میں دیر نہیں کرتے۔سیف سٹی پروجیکٹ میں باڑ لگانا آتا ہے تو اسلام آباد میں باڑ لگا دے۔ تاکہ دارلحکومت سیف رہے۔بیان میں کہا گیا کہ حکمرانوں کی خام خیالی ہے کہ وہ گودار کو غصب کرینگے اور بلوچ قوم خاموشی اختیار کریگا۔۔نیشنل پارٹی گودار اور بلوچستان کی تقسیم اور لوٹنے کے خلاف دیوار ثابت ہوگی۔بیان میں کہا گیا کہ کھٹ پتلی صوبائی حکومت کو اگر ضمیر ہوتی تو وہ گودار اور بلوچ عوام کا سامنا نہیں کرتے لیکن افسوس کہ ایسا کچھ نہیں اور حکومتی وفد باڑ کے حق میں گودار پہنچا ہے۔جہاں عوام نے ان کو مسترد کردیا۔بیان میں کہا گیا کہ نیشنل پارٹی نے روز اول سے گودار باڑ کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا۔عدلیہ سے رجوع کرنے کا مقصد باڑ لگانے کے منصوبے کو بند کرنا اور انسانی آزادی کو چھیننے والوں کی روک تھام کرنا ہے۔نیشنل پارٹی لائر ونگ عدلیہ میں گودار کی عوام آواز بنے گی۔اور عوام کو فتح دلائے گی


