بلوچستان کے عوام کو خودکشی پر مجبور کیا جارہا ہے‘ ایرانی مصنوعات پر پابندی کا فیصلہ عوام کا معاشی قتل ہے،مکران کراچی ٹرک اونرز ایسوسی ایشن
کراچی:ایرانی منصوعات پرپابندی کافیصلہ بلوچستان کے عوام کا معاشی قتل ہے،ہمارے جائزحق کے لئے آوازبلندکرنے پرتمام سیاسی اورسماجی رہنماؤں کے شکرگزارہیں،صوبائی اوروفاقی حکومت کی جانب سے 22لاکھ افرادکوروزگارفراہم کئے بغیرانکوبے روزگارکرناسراسرناانصافی ہے،صوبے بھرمیں اس فیصلہ کے خلاف بھرپواحتجاج اورہڑتال کی جائے گی۔ان خیالات کااظہارحب چوکی میں بلوچستان کے ٹرانسپورٹروں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مکران کراچی ٹرک اونرزایسوسی ایشن کے مرکزی جنرل سیکریٹری محمدسفررخشانی،نے کیااس ہنگامی اجلاس میں کریم کلڑزئی،فیصل رخشانی، ھبتال کلانچی،رحیم،بخش،نادل رخشانی،محمدنور،عاتم جان محمدحسنی،ملاعبدالوحید،ڈاکٹرنصراللہ،حاجی سلیم کلڑزئی،امیربخش،سیٹھ رضا،،ڈاکٹرصالح،نعیم چنال،عبدالعزیزپنجگوری،نصیرجان،حاجی ظفرآوارانی،امان اللہ زہری،واجہ حنیف قمبرانی،اورکثرتعدادمیں ٹرانسپورٹروں کی شرکت،شرکا اجلاس نے کہاکہ وفاقی اورصوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان حاص کرمکران ڈویژن میں روزگاراوربنیادی سہولیات گزشتہ 73سالوں سے فراہم کرنے میں ناکام رہی موجودحکومت سے کافی امیدیں وابستہ تھی لیکن وفاقی وزیرداخلہ کی تبدیلی کے بعدیہاں کے 22لاکھ افرادجوایرانی منصوعات اورڈیزل کے کاروبارسے وابستہ تھے ان کوبے روزگارکردیاگیا،ہماراعرصہ درازسے مطالبہ ہے کہ دیگرایرانی منصوعات کی طرح ایرانی ڈیزل کابھی قانی حل نکالاجائے،لیکن اب باڈربندکرکے نہ صرف 22لاکھ افرادکوبے روزگاکردیاگیابلکہ بلوچستان کے عوام کوخودکشی پرمجبورکیاجارہاہے،مکران ڈویژن میں حکومت کاکوئی پیٹرول پمپ نہیں ہے،پاکستان کی تمام پیٹرولیم کمپنیاں مکران ڈویژن میں پیٹرولیم منصوعات کی فراہم میں ناکام ہوچکی جس کی وجہ سے عوام اورٹرانسپورٹراپنی مدآپ کے تحت خوردنی اشیا ء کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں یہی وجہ ہے جس سے 22لاکھ افرادکوروزگاملاہواہے،ہم وفاقی اورصوبائی حکومت سے اپیل کرتے ہیں،22لاکھ افرادکوبے روزگاکرنیوالے نوٹیفکیشن کوواپس لیاجائے،اوراس اہم مسئلے کا قانونی حل نکالاجائے۔


