مودی سرکار پر متنازع زرعی قوانین واپس لینے کے لیے دباؤ میں اضافہ
نئی دہلی: مودی سرکار پر متنازع زرعی قوانین رد کرنے کے لیے کسانوں کا دباؤ بڑھنے لگا۔ بھارتی وزیر زراعت کی کسانوں سے انفرادی ملاقاتیں بھی ناکام ہو گئیں، کسان رہنماؤں کا کہنا ہے حکومت مزید نئے زرعی قوانین کا منصوبہ بنا رہی ہے تو اس پر بھی احتجاج کیا جائے گا۔
بھارت میں کسانوں اور مودی سرکار کے درمیان مذاکرات میں بریک تھرو نہ ہوسکا۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کی ضرورت ہی نہیں تو مودی ان پر یہ لاگو کیوں کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیر زراعت کی کسانوں سے انفرادی ملاقاتیں بھی ناکام ہو گئیں، کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت مزید زرعی قوانین کا منصوبہ بنا رہی ہے تو اس پر بھی احتجاج کیا جائے گا۔
مظاہروں میں تیزی لانے کیلئے کاشتکاروں کی عوامی رابطہ مہم جاری ہے، انہوں نے جالندھر اور بھاگپور میں ٹریکٹر ریلیاں نکالیں اور لوگوں سے 26 جنوری کو دلی پہنچنے کی اپیل کی۔دلی کے اطراف دھرنوں میں بیٹھے مظاہرین کا کہنا ہے کہ کالے قوانین کو رد کروا کر ہی دم لیں گے۔


