قطر سعودی عرب باہمی رابطے بحال
قطر اور سعودی عرب کے درمیان ساڑھے تین سال تک سفارتی تعلقات منقطع رہنے کے بعد اگلے روز زمینی رابطے بحال ہو گئے ہیں۔جون 2017میں قطر پر انتہا پسند ایران کی حمایت کا الزام عاید کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر سمیت چاروں ملکوں نے منقطع کر لئے تھے۔اب اسرائیل کے ساتھ روابط میں بہتری آتے ہی یہ فیصلہ ہونے کے معنے یہی ہو سکتے ہیں کہ خلیجی ممالک آنے والے دنوں میں کھل کر اسرائیل دوستی کی حکمت عملی کوآگے بڑھائیں گے۔رقبے اور آبادی کے لحاظ سے چھوٹے سے اسرائیل نے 5جون 1967کو200طیاروں سے حملہ کرکے مصر کی فضائی قوت زمین پر ہی ختم کردی تھی۔ صحرائے سینا پر قبضہ کے علاوہ شام کی 12کلومیٹر طویل گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیاتھا، آج تک برقرارہے، دمشق سے 60کلومیٹر دور واقع ہیں اور بہترین لوکیشن ہونے کے باعث فوجی اعتبار سے اسرائیل کے لئے فائدہ مند ہیں۔مصر نے 1978میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کر کے صحرائے سینا واپس لیا۔اردن نے 1994میں اسرائیل سے معاہدہ کرلیا تھااور خاموشی سے دن گزار رہا ہے۔گویا53سال پہلے ہی عرب ممالک نے ذہنی طور پر اپنی شکست تسلیم کر لی تھی، اب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سیاسی، معاشی اور فوجی برتری کو مہارت سے استعمال کرتے ہوئے غیر محسوس طریقے سے عرب۔ اسرائیل دوستی کو دستاویزی شکل دے دی ہے۔ فلسطینیوں کو اپنی طویل قربانیوں کا کیا صلہ ملے گا؟ اس کا فیصلہ بظاہر امید و ناامیدی کی دھند میں چھپا ہوا ہے۔ایک موہوم سی امید کشمیریوں کے حق خودارادیت کے معاملے سے جڑی نظر آتی ہے جو متنازعہ بھارتی آئینی اقدام کے نتیجے میں چینی حمایت کے بل پرایک بار پھر اقوام متحدہ کے ایجنڈے کی زینت بن گیا ہے۔اگر چین نے اپنے مفادات کے تحت مستقبل میں کوئی دوسری حکمت عملی وضع نہ کی تو موجودہ صورت حال کشمیریوں کے لئے مددگار دکھائی دیتی ہے۔
دراصل تاریخ یہی پیغام دیتی ہے کہ آزادی اور حق خود ارادیت کبھی بھی غاصب اقوام نے محکوم اقوام کو طشتری میں سجا کر نہیں پیش کئے، قربانیاں پیش کرنے کے صلے میں یہ سوغات ملی۔کشمیری عوام آج جہاں کھڑے ہیں اس میں ان کی اپنی قیادت کا سیاسی وژن اور اچھے برے فیصلے شامل ہیں جو اہم اوقات پر ان کے قائدین نے اپنی بصیرت کے تحت کئے ہیں۔کسی دوسرے کودوش دیناآسان ہے مگر اندازوں کی غلطی کے منفی نتائج برآمد ہونا فطری امر ہے۔فیصلے ضروری نہیں کہ بد نیتی پر مبنی ہوں، خوش فہمی کے زیر اثر میں بھی قائدین وہ معنے سمجھ لیتے ہیں جو اصل متن میں موجود نہیں ہوتے۔ابن آدم کے ساتھ یہی ہوتا چلا آیاہے۔ریاستوں کی ٹوٹ پھوٹ اور تشکیل نو کے نازک مواقع پر تبدیلیاں تیز رفتاری سے رونما ہوتی ہیں،افواہیں بھی زوروں پرہوتی ہیں۔فیصلہ کن لمحات زیادہ مہلت نہیں دیتے۔ دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب ضروری نہیں کہ ہمیشہ درست ہو، غلطی کے امکانات بھی ففٹی ففٹی ہوتے ہیں۔فیصلہ کرنے والے اپنی دانست میں پوری کوشش کرتے ہیں کہ غلطی نہ ہو مگر تاریخ دونوں اقسام کے فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔زندہ اقوام اپنی غلطیوں سے مایوس نہیں ہوتیں، سیکھتی ہیں، تھوڑی سوچ بچار کے بعد نئی راہ نکال لیتی ہیں۔فلسطینی اور کشمیری بھی مستقبل قریب میں منزل تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں کچھ دیر مزید تکالیف اٹھانی پڑیں۔دشمن کے قویٰ بھی شل ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں،اس کی عقل بھی ماؤف ہو سکتی ہے،اور ہوتی ہے۔ بھارتی اور اسرائیلی پالیسی سازوں پر بھی ایسے مواقع آتے ہیں۔وہ بھی غلط فیصلے کرتے ہیں بس اس لمحے فلسطینیوں اور کشمیریوں کو چوکنا رہتے ہوئے دشمن پر کاری ضرب لگانی ہے۔ طویل کرفیو سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی پالیسی ساز ابھی کرفیوں اٹھانا محفوظ نہیں سمجھتے۔اسی طرح امریکی شہ پر اسرائیلی دارالحکومت یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ بھی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں کر سکا۔
بھارت اور امریکہ کی سلامتی کونسل میں پہلے سی حکمرانی بھی نظر نہیں آتی۔اکثر معاملات میں انہیں ناکامی دیکھنے کو ملتی ہے۔بھارت کو دو کمیٹیوں کا چیئرمین منتخب نہیں کیاگیا، امریکہ بھی بعض معاملات میں تنہارہ جاتا ہے۔جھنجلا کر امریکی صدر نے کورونا کے عروج کے زمانے میں یو این او/ڈبلیو ایچ او کو فنڈز ادا نہ کرنے کی دھمکی دے دی تھی۔جو بائیڈن کے حلف اٹھانے کے بعد معلوم ہو سکے گا امریکہ آئندہ چار سال عالمی افق پر کیا کردار ادا کرنا پسند کرے گا؟خلیجی ریاستوں کے لئے کیاپالیسی ہوگی؟ اسرائیل کی انگلی پکڑ کر چلتارہے گا یا اپنی مرضی سے بھی قدم بڑھائے گا؟چین اور بھارت کے درمیان پیداشدہ تنازعات بڑھیں گے یا ان میں اضافہ ہوگا؟ سی پیک کے حوالے سے بھارتی سوچ میں کتنی تبدیلی آسکتی ہے؟اس کے اثرات بھی خطے کی نفسیات پر مرتب ہوں گے۔بھارت اپنے اندرونی مسائل حل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوگا؟یہ جواب بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اندرونی مسائل کا شکار ملک خارجہ محاذ پر من پسند نتائج حاصل نہیں کرتا۔ پاکستان اس قسم کی صورت حال سے کئی دہائیوں سے نبرد آزما ہے۔پاکستان کے شہری ان پیچیدگیوں سے واقف ہیں۔عرب ممالک نے اسرائیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا کر شاید یہ سمجھا ہے کہ ایک طرف سے ان پر حملوں کا خطرہ ٹل جائے گا۔لیکن یہ خدشہ اپنی جگہ موجود رہے گا کہ کسی اسرائیلی اقدام کے نتیجے میں ایران سے تناؤاچانک بڑے تصادم میں نہ تبدیل ہوجائے۔فلسطین سمیت کوئی بھی واقعہ اس کا سبب بن سکتا ہے۔قطر اورسعودی عرب کے تعلقات میں بہتری جہاں ایک جانب خوش آئند ہے وہیں دوسری جانب اس کے برعکس منظر بھی پیدا ہوسکتا ہے۔تاہم پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ خطے میں امن کو تقویت ملے گی۔خونریزی کاسلسلہ تھمے گا۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔اس لئے کہ ترقی اور خوش حالی کا راستہ امن کے بغیر نہیں کھلتا۔


