عاصمہ فٹبال کو نہیں امن کے دشمنوں کو لات مار رہی ہے،بھائی
وزیرستان:عاصمہ حافظ کے سکول پرنسپل کے مطابق سوشل میڈیا پر ان کی مشہور ہونے والی یہ تصویر گذشتہ سال دسمبر میں لی گئی تھی جب سکول کے بچوں میں فٹ بال کا مقابلہ ہوا تھا۔
’والدین بہت زیادہ خوش ہیں، ان کی بیٹی نے دنیا کو وزیرستان میں بچیوں کی تعلیم کا ایک دوسرا چہرہ دکھایا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اگر سہولیات فراہم کی جائیں تو تعلیم میں ہر کوئی آگے جا سکتا ہے۔‘
یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا میں قبائلی ضلع وزیرستان کے علاقے وانا سے تعلق رکھنے والے حذیفہ حافظ کا، جو آٹھ سالہ بچی عاصمہ حافظ کے بھائی ہیں۔ عاصمہ حافظ وہ بچی ہیں جن کی تصویر آج پاکستانی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ تصویر میں وہ فٹبال کھیلتے نظر آتی ہیں جب کہ باقی سکول کے بچے بیٹھ کرانہیں دیکھ رہے ہیں۔
حذیفہ ایبٹ آباد کی کامسیٹس یونیورسٹی سے سافٹ وئیر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جب کہ ان کے دوسرے بھائی کیڈٹ کالج کوہاٹ اور تیسرے پشاور کے ایک نجی کالج میں پڑھتے ہیں۔
حذیفہ نے بتایا کہ وہ بہت زیادہ خوش ہیں اور ان کی بہن نے علاقے کا نام روشن کیا ہے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ان کی بہن کو ہزاروں لوگوں کی جانب سے پذیرائی ملی ہے۔
حذیفہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا عاصمہ پہلے سے گیم کھیلنے کی شوقین ہیں تو جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’معاشرے میں خواتین کا سپورٹس میں حصہ لینا معیوب سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں خواتین اس شوق کے بارے میں سوچتی بھی نہیں اور دوسری جانب یہاں پر خواتین کے لیے تعلیمی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔‘
حذیفہ نے بتایا، ’اب زمانہ بدل گیا ہے اور لوگ چاہتے بھی ہیں کہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں، لیکن نظام تعلیم کی حالت یہ ہے کہ اس علاقے میں بچوں کا سرکاری سکول تو موجود ہے مگر دہشت گردی کے بعد حالات کافی بہتر ہونے کے باوجود سکول ابھی تک بحال نہیں ہوا ہے۔ جب کہ بچیوں کے لیے کوئی بھی سکول موجود نہیں۔ جس سکول میں میری بہن پڑھتی ہیں یہ بھی بچوں کا ہے لیکن سکول انتظامیہ نے کوشش کی ہے کہ بچیوں کو بھی داخلہ دیں۔‘
ان سے جب پوچھا گیا کہ اگر مستقبل میں ان کی بہن تعلیم کے ساتھ سپورٹس میں بھی شرکت کی خواہاں ہوں تو کیا ان کو اجازت ملے گی؟
اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ اگر علاقے میں تعلیم کی سہولیات اور سکول موجود ہوں اور ساتھ میں کھیلوں کے مواقع بھی ہوں تو ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کریں اور ملک و قوم کے لیے کچھ کر سکیں۔
عاصمہ حافظ نجی سکول ’القادر پبلک سکول‘ میں تیسری جماعت کی طالبہ ہیں ۔ مذکورہ سکول کے پرنسپل شاہ حسین نے بتایا کہ یہ سکول 1998 میں قائم ہوا تھا جب کہ وزیرستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور ملٹری اپریشن کے دوران یہ بند کر دیا گیا تھا ۔
انہوں نے بتایا کہ’ 1998 کے بعد اب ہم نے پہلی مرتبہ سکول میں بچوں اور بچیوں کے لیے سپورٹس گالہ کا انعقاد کیا تھا اور اس گالہ میں طلبہ نے بہت شوق سے حصہ بھی لیا۔‘
شاہ حسین نے بتایا۔ ’جس بچی کی تصویر وائرل ہوئی ہے یہ سکول کے بچوں کے مابین فٹبال مقابلے میں حصہ لے چکی تھیں اور یہ مقابلہ دسمبر کے آخری ہفتے میں منعقد کیا گیا تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ یہاں تعلیم کے میدان میں اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ’کیونکہ ایک مثال میں یہ دیتا ہوں کہ یہ سکول لڑکوں کے لیے ہے لیکن اس علاقے میں لڑکیوں کا سکول نہ ہونے کی وجہ سے میں نے کوشش کی ہے کہ جو والدین بچیوں کو داخل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اجازت دے دی جائے۔
حسین نے بتایا ،’میں علاقے میں کوشش بھی کرتا ہوں کہ والدین کو اس بات کی ترغیب دوں کہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کا بھی بندوبست کریں، کیونکہ دونوں کو تعلیم دلوانا آج کل کے زمانے کی ضرورت ہے۔‘
شاہ حسین کے مطابق چونکہ یہ ایک نجی سکول ہے جہاں فیس دینی پڑتی ہے لیکن تمام لوگ فیس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اس لیے سرکاری سکول کی اس علاقے میں اشد ضرورت ہے۔
انھوں نے بتایا ’ہم نے کوشش کی ہے کہ متوسط گھرانے کے بچوں سے یا تو فیس نہ لیں اور یا فیس میں کمی کریں۔ لیکن سرکاری سکول بن جانے سے علاقے کے زیادہ تر بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو جائیں گے۔‘
عاصمہ حافظ کی تصویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے حوصلہ افزائی پر مشتمل ردعمل سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزرا اور اراکین اسمبلی بھی اس بارے میں بات کرنے والوں میں شامل رہے۔
وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے’ بعض تصاویر کو کیپشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘ ساتھ میں محسن داوڑ نے ‘امید’ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔


