وزیر دفاع کا ناقابل یقین دعویٰ

وزیر دفاع پرویز خان خٹک نے اپنے آبائی گاؤں مانکی شریف میں اپنے حامیوں کی کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے:”اگر وہ خرابی کریں تو عمران خان کی حکومت ایک دن بھی نہ چلے، پورے پاکستان کی اپوزیشن میری عزت کرتی ہے، میں بھی ان کی عزت کرتا ہوں،اسمبلی کے سارے ممبران کو سنبھالتا ہوں، میں جس سے اختیار لے لوں وہ خود ہی صفر ہو جاتا ہے، جس کا ساتھ دیتا ہوں وہ آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔یہ میری محنت اور کوشش ہے کہ پورے پاکستان سے مقابلہ کر رہا ہوں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ عمران خان کے ان پر بہت احسانات ہیں، میں سیاست میں انہیں دھوکہ نہیں دے سکتا۔ان کا مقروض ہوں،ہماری کوششوں اور وزیر اعظم کی وجہ سے اپوزیشن کو شکست دی۔ اپوزیشن کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف، سابق صدر زرداری اور جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمٰن سمیت سب جیل جانے والے ہیں۔۔۔۔۔۔ عام آدمی کے لئے وزیر دفاع کا لہجہ اور انداز گفتگو اجنبی ہے۔وہ اس قسم کے الفاظ اور جملے زبان پر نہیں لاتے۔یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ پرویز خٹک میدان میں لڑنا نہیں جانتے، انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے پنجاب اور خیبر پختونخواکو ملانے والے پل پر جس بہادری سے مسلم لیگ نون کی منصوبہ بند انتہائی زہریلی آنسو گیس شیلنگ اوربارڈر پولیس کی فائرنگ کا رات بھر مقابلہ کیا،پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ رات گزاری اور تازہ دم ہو کر دوبارہ پنجاب کا سفر جاری رکھا،یہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔کامیاب جدوجہد نے پا کستان میں خاندانی حکمرانی پر کاری ضرب لگائی۔سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس مقدمے پر سماعت کا حوصلہ پکڑا۔اور پھر یہ مقدمہ پیچ دار رستوں سے گزرتا اقامہ تک جا پہنچا اور اقامہ ہولڈرز پریشان ہیں۔
لہجے میں تبدیلی وجہ صرف وزارت دفاع میں تلاش کی جانی چاہیئے۔جب باوردی جنرلز سیلیوٹ کرنے لگیں،اور انہیں دفاعی معاملات تک مناسب رسائی بھی حاصل ہو گئی ہے توسب کچھ ممکن ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے لئے یہ لب ولہجہ اور بلند و بانگ دعویٰ غیر متوقع ہوگا،لیکن وہ فوری طور پر اس کا برا نہیں منائیں گے۔محتاط ہوجانا ان کا حق ہے۔ جائزہ لیں اور اپنے بہی خواہ کے بدلتے تیور کے اسباب پر غور کریں۔خواجہ آصف بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، انہوں نے بھی ایوان میں کہا تھا کہ پتہ بھی نہیں چلتا اور چھت اچانک سروں پر آ گرتی ہے۔عین ممکن ہے کوئی ایسی بھاری بھرکم اطلاع وزارت دفاع میں گردش کر رہی ہو۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے لہجے میں تہس نہس کرنے والا طوفان ٹھاٹھیں مارتا دکھائی دیتا تھا، اسلام آباد کی بجائے پنڈی کو اپنی منزل کہنے لگے تھے، چار دہائیوں کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کرتے تھے آخر ہمارے سینوں میں بھی راز ہیں۔اب ان کی زبان نے شعلے اگلنے ترک کر دیئے ہیں، ان زبان کی تلخی کافور ہو گئی ہے، وہ فرماتے ہیں:”ہماری جنگ حکومت کے ساتھ ہے، ایسٹبلشمنٹ کے ساتھ نہیں، اپنوں سے گلے شکوے ہوتے ہیں، لڑتے نہیں“۔ گویا پنڈی جانا قصہئ پارینہ ہو گیا،اول تو جانا ہی مشکوک لگتا ہے،اور اگر یہ رسم نبھانا پڑی تو اسلام آباد کا رخ کریں گے،وہ بھی آئین اور قانون کے دائرے میں!حکومت گرانے کا خیال مریم نواز نے بھی مسترد کر دیا ہے،وہ کہتی ہیں ہم حکومت نہیں گرائیں گے، انہیں شہید بننے کا موقع نہیں دیں گے۔ یہ خود ہی اپنے بوجھ سے گر جائیں تو گر جائیں، ہم نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے۔لہجے کی تبدیلی کے اصل محرکات وزیر دفاع کے علم میں آئے ہوں گے،تو ان کے دل میں آسمان کی بلندیوں کو چھونے کی خواہش نے انگڑائی لی ہوگی۔ خود کو پارس سمجھنے کی خوش فہمی نے چند لمحوں کے لئے اپنے سحر میں لے لیا ہوگا،جیسے ہی سحر ٹوٹ انہوں نے احسانات کا ذکر چھیڑ دیا۔ ورنہ ان جملوں کی اس خطاب میں گنجائش نہیں تھی۔
اچھا ہوا جلدی سمجھ نے کام شروع کردیا، ورنہ وزیر اعظم عمران خان وکٹ اڑانے یا چھکا لگانے کا فن جانتے ہیں۔ویسے سیاست میں نشیب و فراز معمول کی بات ہے۔ایک لمحے انسان بلندیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے،اور دوسرے لمحے تسلیم کرتا نظر آتا ہے کہ میں تو فرزند زمین ہوں مجھے تو زیر زمین جانا ہے۔روس کے تاحیات صدر کے خلاف سخت سردی میں ہزاروں لوگ سڑکوں پرنکل آئے ہیں، 4700 سے لگ بھگ گرفتاریاں ہو چکیں،مگر عوام کے نعروں کمی نہیں آئی۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو یاد دلایا ہے کہ حکومت نے باعزت مستعفی ہونے کا موقع کھو دیا ہے،حالانکہ وہ مستعفی ہوکر آذزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے جمہوریت کو آگے بڑھا سکتے تھے۔انہوں نے اسٹبلشمنٹ کو بھی مشورہ دیا ہے کہ سیاسی لڑائیوں سے دور رہے یا تنازعات کے حل کے لئے تیار رہے۔ٹویٹ پی

اپنا تبصرہ بھیجیں