وزیر اعلی کی جانب سے سریاب میں لائبریری اور کالج کے منصوبوں کو روکنا تعلیم دشمنی ہے، خالد بلوچ
کوئٹہ،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی وائس چیئرمین خالد بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے وزیراعلی بلوچستان کے جانب سے سریاب کے منظور شدہ سردار عطائاللہ خان لائبریری اور سریاب گرلز کالج کے منظور شدہ منصوبوں کو روکنا تعلیم دشمنی و سریاب کے عوام کے ساتھ انتقام ہے منظور شدہ منصوبوں کو کمیشن کی خاطر روک کر حصہ وصول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جسکی کسی صورت اجازت نہیں دینگے اسی طرح پہلے خاران میں منظور شدہ بی آر سی کالج کے فنڈز کو روکا گیا پھر ہمارے ہائیکورٹ جانے پر کام شروع ہوئی اب سریاب کے تعلیمی اداروں کے لئے احتجاج اور ہائیکورٹ سے رجوع کرینگے انہوں نے مزید کہا ہے کہ صوبائی حکومت صرف اخبارات اور سوشل میڈیا پر لفاظی اعلانات تک محدود ہوچکی یے لیکن علمی طور پر بجائے نئے منصوبے منظور کرنے کے پہلے سے منظور شدہ منصوبوں کو بھی کینسل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے عوامی فنڈز کو صرف سیاسی رشوت لوگوں کے خرید فروخت کا زریعہ بنایا جاچکا ہے تعلیمی اداروں کو مسائل کا شکار بنائی جارہی یے شعبہ تعلیم میں اساتذہ کی کمی کالجز میں ٹیچرز نہ ہونے کے برابر ہے پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کو ناقص پالیسیوں کی وجہ سے غیر فعال بنا دی گئی حکومت فنڈز کو صرف کاغذی منصوبوں پر لکا کر کرپشن کا شکار بنا رہی ہے اب سردار عطاء اللہ خان مینگل لائبریری جسکے لئے زمین و فنڈز منظور ہوچکے ہے وزیر اعلی بلوچستان سیاسی مخالفت کے زریعے سمری کو منظور نہیں کررہے صوبائی حکومت اپنے نااہلی کو چھپانے کے لئے صرف قوم پرست جماعتوں پر تنقید کا سہارہ لے رہی یے تاکہ بلوچ وسائل پر استحصالی حربوں کو تقویت دی جاسکے وزیر اعلی بلوچستان کے عوام دشمن پالیسیوں بلخصوص سردار عطائاللہ خان لائبریری کے منصوبے کو منسوخ کرنے یا تاخیر کا شکار بنانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی اسکے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔


