گوادر، ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ ویران علاقے میں منتقلی کی تیاری، فنکاروں کی مخالفت
گوادر:گوادر شہر میں موجود ریڈیو پاکستان کو شہر سے 16کلو میٹر دور ویرانے میں منتقل کرنے کے لیے اراضی مختص کردی گئی عنقریب کام کی شروعات کی جائے گی،گوادر کے فنکاروں نے مخالفت کردی اس سلسلے میں خیر جان آرٹ اکیڈمی، بام فلمز پروڈکشن اور گوادر آرٹس کونسل کی جانب سے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہر سے 16 کلومیٹر دور ریڈیو پاکستان کے لیئے جگہ مختص کرنا اور ریڈیو پاکستان آفس کو شہر سے 16 کلومیٹر دور شفٹ کرنا قومی خزانے کے پیسوں کی ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کی اراضی جس جگہ پر مختص کی گئی ہے اس جگہ پر زندگی کے بنیادی سہولیات پانی، بجلی انفرا اسٹرکچر و دیگر سہولیات دور دور تک دیکھائی نہیں دیتے۔ریڈیو کو آپریٹر کرنے کے لیے بجلی اہم جز ہوتا ہے مذکورہ جگے پر بجلی دور دور تک نہیں ہے تو دوسری متبادل جنریٹر ہوگا جس کے لیے فیول کی بجٹ پہلے سے نا ہونے کے برابر ہیں۔ ریڈیو کے پروگرامز فنکاروں آرٹسٹوں سے چلتا ہے شہر سے طویل سفر پر آنا جانا آرٹسٹوں اور فنکاروں کے لیے ممکن نہیں۔ اسی طرح ریڈیو پاکستان کے ملازمین کے لیے بھی دشواری کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس بیابان پر ریڈیو پاکستان کے لیے زمین مہنگے داموں پر خریدا گیا وہاں سکیورٹی کے بھی مسائل درپیش ہونگی انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز سے گزارش کرتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا گیا ہے اس کا جائزہ لیں اور فوری طور پر اس جگہ کو کینسل کرواکر گوادر شہر کے اندر معتبر سرکاری ہاسنگ اسکیم سے پلاٹ لے کر ریڈیو پاکستان کو فراہم کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان مہنگے داموں سے خریدا گیا اراضی کینسل نہیں کرواتا تو مزکورہ اراضی پر ریڈیو پاکستان کے ہائی پار ٹرانسمیشن (HTP) کے لیے مختص کر دیں اور موجودہ جگہ پر اسٹیشن قائم ہے اسے اسی طرح پروگرامات کی نشریات کے لیے جاری رکھا جائے۔


