جمہوریت کا تسلسل قائم رہتاتوپیسہ نہ چلتا

سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ/سیکرٹ بیلٹ ووٹنگ کے حوالے سے زیر سماعت مقدمہ میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل قائم رہتا تو سیاست میں پیسہ نہ چلتا۔ ضرورت ہے کہ سپریم کورٹ ایک بار اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کرے،تاکہ یہ معاملہ ہر دوسرے سال ملک کے گلی کوچوں میں زیر بحث نہ لایا جائے۔سیاست دان یہ شکایت لے کر”سالانہ دھرنا فیسٹیول“منانے اسلام آبادجانے کو سیاست کا مقدس فریضہ کہنا، سمجھنا اور ماننا ترک کر دیں۔ سپریم کورٹ کے معزز ججز نے بجا طور پر معاملے کی بنیادی وجہ کی جانب نشاندہی کی ہے۔فی الوقت اس حوالے سے صرف ایک چھوٹے سے پہلو (سینیٹ انتخابات میں سیکرٹ بیلٹ ختم کرکے اوپن بیلٹ) کو نافذ کرنا عدالت میں اٹھایا گیا ہے،اس الیکشن میں عام آدمی کو سرے سے ووٹ نہیں دینا۔ ووٹرز صوبائی اسمبلیوں کے منتخب اراکین ہیں۔اور جو لوگ 3مارچ کو مطلوبہ ووٹ لے کر سینیٹ جیسے قانون ساز ادارے کے رکن بن جائیں گے اوران کانام الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹر ز کی فہرست میں نوٹیفائی ہوتے ہی آئندہ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک و مختار ہوجائیں گے۔ قومی اسمبلی کے منظور کردہ بل کی کاپیاں پھاڑنے اور پرزے پرزے کرکے ہوا میں لہرانے کا اختیار انہیں حاصل ہو جائے گا۔جو بقول وزیر اعظم عمران خان بلوچستان میں سینیٹ کی اس ایک سیٹ کو خریدنے کے لئے50سے70کروڑ روپے خرچ کرنے کو تیار ہیں۔یہ معمولی رقم نہیں، اسے جیب میں ڈال کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا ممکن نہیں۔اسی لئے 2018میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے لین دین کی ویڈیوزایک دو دن پہلے ہی موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔لیکن میڈیا پرانی اہم مواقع کی ویڈیوز بھی سنبھال کر رکھتا ہے۔ عمران خان کو2018 میں سینیٹ الیکشن میں ہونے والی خرید و فروخت کی تفصیلات پورے یقین کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ آج کہہ رہے ہیں کہ اگر اس وقت میرے پاس ویڈیو ہوتی تو میں نکالے گئے اراکین کے خلاف عدالت میں پیش نہ کردیتا؟جومیرے فیصلے کے خلاف عدالت چلے گئے تھے۔چلیں مان لیتے ہیں ان سے ماضی میں پورا سچ نہیں بولا گیا، سچ کا باقی ماندہ حصہ 2021میں ان کے حوالے کیا گیا۔اس لئے کہ پیسہ پھینک کر سینیٹر بننے والے جانتے تھے کہ ان کی کمزوری ویڈیو کی شکل میں ”دشمنوں“کے پاس موجود ہے۔چنانچہ 64اور50والا شرمناک کھیل ایون میں کٹھ پتلی تماشے کی طرح پوری قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اور اس کے بعد سے اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کا نام سنتے ہی اپنے دونوں کان پکڑتی ہے۔عدم تحریک کا نام لینا اپوزیشن نے ترک کر دیاہے۔صرف پی پی پی کبھی کبھار یہ سیاسی اصطلاح اپنی زبان پر لے آتی ہے،وہ بھی میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے۔سپریم کورٹ سے امید تھی کہ اتنے اعلیٰ ادارے میں خرید و فروخت کایہ دروازہ مستقل طور پر بند کرنے کا کوئی راستہ متعین کرتی مگر ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے روبرو کہہ چکا ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر سیکرٹ بیلٹ کا پابند کیا جانا ممکن نہیں۔چنانچہ اب ایک بار پھر وہی کچھ دہرایا جائے گا جو پاکستان کے عوام سینیٹ کے انتخابات میں ہر دو سال بعددیکھتے چلے آئے ہیں۔جب آئین ساز اسمبلی آئین سازی کرتے وقت اتنی بڑی خامی چھوڑ جائے تو بعد میں آنے والے اپنا سر دیواروں سے پٹخ سکتے ہیں، ایک دوسرے کوچور چور، ڈاکو ڈاکوکہہ کر اپنی اور اس معزز ایوان کی توہین کر سکتے ہیں مگر آئین میں اصلاح نہیں کر سکتے،دو تہائی اکثریت کی شرط راستہ روکے ہے۔یہ بھی اچھا ہوا،ورنہ آئین کی وہ درگت بنائی جاتی کہ دنیا میں سر اٹھا کر چلنا ممکن نہ ہوتا۔دو تہائی مانگ کر لینے والی پارٹی اپنے گناہوں کا حساب دینے کے جس عمل سے گزر رہی ہے،اگر انجام کار عوام کے سامنے جواب دہی کے قابل رہی تو مستقبل کا مورخ اس کی وضاحتیں ریکارڈ پر لانے کا فیصلہ کرے گا۔3مارچ کے منتخب سینیٹرز کے لئے خود کو64اور 50والی شعبدہ بازی حسب ضرورت ایوان میں آئین کی ”بالادستی“ کے نام پر دہرانے کے لئے دستیاب ہوں گے۔اپنے سابقین کی روایات کو استحکام بخشیں گے، انہیں تازگی بخشنے اور چمن کا کاروبار چلانے میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے رہیں گے۔
یہ چمن یوں ہی رہے گا، اور ہزاروں جانور؛
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ جمہوریت کا تسلسل قائم رہنے کا یقین عوام کو کیسے آئے گا؟ اس لئے کہ ابھی تک سالانہ دھرنا دینے کی رسم ادا کرنا کا سلسلہ تھما نہیں۔ابھی تک وہ کہہ رہے ہیں مسلم لیگ قاف کے رہنما چوہدری شجاعت حسین نے جو کسی اور کے شریفانہ وعدہ کے ضامن بنے تھے،اب ضامن کی ذمہ داری پوری کریں۔مولانا خود بھی جانتے ہیں کہ ضامن میں کتنا دم خم ہے؟اور وعدہ کرنے والے کتنے طاقت ور ہیں؟مبصرین کی بڑی تعداد نے پی ڈی ایم کے ڈانوال ڈول رویہ پرجو کہنا تھا کہہ چکے، عوام کی تقدیریں نہ کمزور ضامن تبدیل کرا سکتے ہیں،اور نہ ہی گلی گلی مجمع لگا کر: ”ساڈے نال کیتاوعدہ پورا کرو“ کی فریاد کرنے والوں کی دلی مراد کبھی بر آئے گی۔اس لئے کہ اس در پہ جو بھی سوالی آیا، ہمیشہ خالی جھولی لے کر واپس گیا۔ ناموں کی لمبی فہرست ہے سب واقف ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے یہ کام جب بھی کیا جائے گا اسی پارلیمنٹ کو کرنا ہوگا۔لیکن۔۔۔۔جب عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اراکینِ پارلیمنٹ کوپارلیمنٹ کے دروازے تک پہنچانے آئے گا تب وہ روشن دن طلوع ہوگا۔اس سے پہلے ایسی ہی کاذب صبحیں نمودار ہوتی رہیں گئی۔عوام بھی سمجھدار ہیں صادق اور کاذب میں فرق جانتے ہیں۔صبر سے ایک ایک دن گن کر کاٹ رہے ہیں۔عوام کو یقین ہے، پیسے کی سیاست کا پرچم ایک دن سرنگوں ہو کر رہے گا،اور وہ دن زیادہ دور نہیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں