لسبیلہ، سینکڑوں خواتین اساتذہ 10ماہ سے تنخواہوں سے محروم

حب(نمائندہ انتخاب)گلو بل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن بلوچستان پروجیکٹ کے تحت لسبیلہ کے دیہاتوں میں خدمات سرانجام دینے والی سینکڑوں فیمیل اساتذہ گزشتہ 10ماہ سے تنخواہوں کی بندش اور مستقلی کے آرڈر جانے نہ ہونے کے خلاف اپنی فریاد لیکر پریس کلب پہنچ گئیں، مذکورہ پروجیکٹ کے تحت کام کرنے والی اساتذہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم فراہمی کے سبب گھروں کے چولہے ٹھنڈے پُر گئے ہیں گزشتہ کئی سالوں سے فرائض سرانجام دینے کے باوجود انہیں مستقل نہیں کیا جارہا گلو بل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن بلوچستان ضلع لسبیلہ کی فیمیل متاثرہ اساتذہ زلیخاء شیخ،شازیہ حیدر،نسرین بشیر اور صفیہ عثمان نے فیمیل اساتذہ کے ہمراہ لسبیلہ پریس کلب میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا انھوں نے مزید کہاکہ ہماری گزشتہ 8 ماہ سے بند تنخواہیں جاری کر نے کے ساتھ ساتھ ہمارے مستقلی کے آرڈز جاری کئے جائیں گلوبل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن اور محکمہ تعلیم بلوچستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا گیا جس میں ورلڈ بینک کے تعاون سے بلوچستان کے دور دراز پسماندہ علاقوں میں تعلیمی بہتری کیلئے 725 اسکول تعمیر کئے گئے تھے جن میں اس وقت تقریبا ایک لاکھ سے زائد بچے و بچیاں زیر تعلیم ہیں جنہیں تعلیم وتربیت دینے کیلئے 14934 اساتذ نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر تعینات کئے گئے جو کہ این ٹی ایس میں 80 سے 90 فیصد نمبروں کے ساتھ کوالیفائی کئے تھے. انہوں نے کہا کہ معاہدے کے مطابق ہم اساتذہ کو ایک سال کے بعد مستقل کیا جانا تھا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بجائے ہمیں مستقل کرنے کے ہرسال معاہدے کو بڑھایا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں تنخوائیں بھی 6 سے 10 ماہ بعد ملتی ہیں لیکن اس کے باوجود بلوچستان بھر کے GPE اساتذہ نہایت ایمانداری محنت لگن اور جانفشانی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ GPE کے تمام سکولز دور دراز علاقوں میں تعمیر کئے گئے ہیں جسکی وجہ سے ان اسکولز میں تعینات اساتذہ کو ٹرانسپورٹ کا بھی شدید مسئلہ درپیش ہے کیونکہ آٹھ سے دس ماہ تک بغیر تنخواہوں کے کنوینس کی مد میں ہزاروں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں جی پی ای کے 90 فیصد اساتذہ انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں بروقت تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے وہ مقروض ہو چکے ہیں اور شدید مالی و ذہنی اذیت کا شکار ہیں. انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ لسبیلہ میں اس وقت GPE کے اسکولز کی تعداد 41 ہے اور ان میں تقریبا 3000 سے زائد بچے اور بچیاں تعلیم کی روشنی سے منور ہورہے ہیں ان میں سے کچھ اسکولز ایسے ہیں جہاں طلبا و طالبات کی تعداد 100 سے 300 تک ہے ان میں تعینات اساتذہ نہایت خوش اسلوبی سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ غور طلب بات یہ ہے کہ محکمہ تعلیم کے سرکاری اسکولز کی طرح GPE اسکولز کوبھی BEMIS کوڈ بھی جاری ہو چکے ہیں اسکے علاوہ جس طرح ایک سرکاری ملازم کو ڈسٹرکٹ اکانٹس آفس سے ایک Monthly Salary Statment جاری ہوتی ہے اسی طرح ہم GPE کے اساتذہ کو بھی Monthly Salary Slip جاری کی جاتی ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم بھی سرکاری محکمے کا حصہ ہیں. انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے حالیہ دورہ لسبیلہ کے دوران ہم نے اپنے اس مسئلہ کے بارے میں درخواست پیش کی تھی جس پر جام کمال خان نے ثبت انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ انشااللہ جلد ہی مسئلہ حل ہوجائے گا اور آج ہم ایک بار پھر میڈیا کے توسط سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور ان کی صوبائی کابینہ میں شامل تمام وزرا،وزیر تعلیم سردار یار محمد رند، سیکریٹری تعلیم بلوچستان،ڈائریکٹر سیکنڈری ایجوکیشن بلوچستان اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لسبیلہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے اس اہم مسئلے کے حل کے لئے جلد اقدامات کریں تاکہ ہم فیمیل ٹیچرز کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں