ہم تک کھانا، پانی اور ادویات کی رسائی تک روک دی گئی، مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا، اپوزیشن قیادت
اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ ایکس پر پوسٹ کی ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ اس وقت جس طرزِ عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے وہ ایک جمہوری دارالحکومت کے شایانِ شان نہیں، آج مسلسل تیسرا دن ہے کہ پارلیمنٹ ہاﺅس کے اندر موجود دھرنا مظاہرین تک کھانا، پانی اور ادویات کی رسائی تک روک دی گئی ہے، یہ اقدام نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ بنیادی جمہوری و آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت اپنے مطالبات پر پوری ثابت قدمی کے ساتھ قائم ہے، تاریخ گواہ ہے کہ حربوں، محاصروں اور جبر سے نہ کبھی تحریکیں دبائی جاسکی ہیں اور نہ ہی حق پر قائم لوگوں کو مطالبات سے پیچھے ہٹایا جا سکا ہے، ایسے ہتھکنڈے صرف ظلم کے ریکارڈ میں اضافہ کرتے ہیں، حق کی آواز کو خاموش نہیں کرسکتے، قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس جعفری کی ادویات تک رسائی روک دینا ایک سنگین اور قابل مذمت عمل ہے، کسی بھی سیاسی اختلاف کو انسانی ہمدردی اور طبی ضرورتوں پر فوقیت دینا ظلم کی بدترین شکل ہے، مزید برآں، تحریک تحفظ آئین پاکستان یہ واضح مطالبہ دہراتی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو ان کے اپنے معالجین اور فیملی ممبران کی موجودگی میں الشِفاءانٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جائے، جیسا کہ انہوں نے اپنے خطوط میں واضح کیا ہے، کسی بھی زیر حراست شخص کو معیاری طبی سہولت اور اپنے معالجین تک رسائی دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، احسان نہیں، تحریک تحفظ آئین پاکستان اعلان کرتی ہے کہ وہ ظلم، جبر اور محاصرے کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوگی، یہ جدوجہد آئین، قانون اور عوامی حق نمائندگی کے تحفظ کی جدوجہد ہے اور اسے کسی صورت دبایا نہیں جاسکتا


