بلوچستان کی معدنیات؟

تحریر: یاسر حبیب خان
بلوچستان کے پہاڑوں میں چونکہ کھربوں ڈالرز کی نایاب زمینی معدنیات کے ذخائر موجود ہیںجن کی الیکٹرک گاڑیوں کے پرزوں، جدید بیٹریوں، ہوا اور سولر سے پیدا ہونے والی بجلی کے آلات ، ہوا بازی کے سامان ، خلائی ٹیکنالوجی کے پرزہ جات اور جدید ترقی کی صنعتوں میں اہم ضرورت ہے۔ اس لئے بلوچستان کے مائنز اور منرلز پوری دنیا کے ریڈار پر آچکے ہیں۔ حکومت بلوچستان نے بھی پاکستان کو عالمی مائننگ مارکیٹ کا حصہ بنانے کیلئے کچھ اقدامات کیے ہیں جیسا کہ 2025ءمیں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مائنز اینڈ منرلزکو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا گیا اور اس کے حوالے سے جدید حکمت عملی کی طرف پیش قدمی بھی شروع کی گئی جبکہ حکومت پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو پروان چڑھانے کیلئے 2025میں امریکہ کی کمپنی میسوری بیسڈ یو ایس سٹریٹجک میٹل کو 500ملین ڈالر کی نایاب زمینی عناصر کی پہلی کھیپ بھی بھیجی۔ چین کے سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کیلئے 28 جنوری 2026ءکو چین پاکستان ای مائننگ پلیٹ فارم کو لانچ کیا گیا۔ ان تمام اقدامات کے باوجود مائننگ کی صورتحال میں انتہائی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے بلوچستان کے پہاڑوں کی کانوں اور معدنیات کو جاننے کیلئے اور ان کی عالمی منظر نامہ میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ بلوچستان حکومت کے کردار،سیاسی رہنماﺅں کے طرز عمل اورکان کنی کی صنعت سے وابستہ لوگوں کے مسائل اور عام بلوچ کی زندگی کا تجزیہ کیا جائے۔ مجھے گزشتہ ہفتے بلوچستان جانے کا اتفاق ہوا۔ زمینی حقائق جان کر پتہ چلا کہ عالمی سرمایہ کاری ابھی صرف تخلیاتی چیز ہے۔ ریکوڈک اور سیندک کے علاوہ کہیں بھی غیر ملکی کمپنیاں کام نہیں کر رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک کان کنی اور معدنیات کے حوالے سے باضابطہ قانونی فریم ورک ہی موجود نہیں۔ سیکورٹی کے شدید خدشات و خطرات بھی ایک الگ چیلنج کے طو رپر موجود ہیں۔ بھتے کے نام پر مائنز مالکان کا معاشی قتل عام بھی جاری ہے۔
سیاسی ہم آہنگی کے نہ ہونے اور آپس کی چپقلش نے بھی صورتحال کو مزید گمبھیر بنا رکھا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے قانون سازی تو کی گئی ہے لیکن وہ نفاذ سے قبل ہی متنازعہ ہو گئی ہے۔صوبائی حکومت نے گزشتہ سال بلوچستان مائنز اینڈ منرلز بل 2025ءاسمبلی سے پاس کرایا جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی رضا مندی ظاہر کی مگر جلد ہی اس کا بائیکاٹ کر دیا گیا اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے آواز بلند کی کہ ان سے دھوکہ دہی سے بل پر دستخط کرائے گئے بلکہ یہاں تک اس بل کو صوبائی خود مختاری پر قدغن اور عوام کے حقوق پر ڈاکہ قرار دیا گیا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس بل کو مسترد کرتے ہوئے نیا بل لانے کا مطالبہ بھی پیش کر دیا ہے۔دوسری جانب بلوچستان کی حکومت نے یہ موقف اختیار کیاہے کہ وہ بل کی شقوں کی تبدیلی پر بات کرنے کیلئے تیار ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں معاملہ اور بھی پیچیدہ ہو چکا ہے چونکہ حزب اختلاف کی جماعتوں جن میں پختوانخواہ عوامی ملی پارٹی،بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل)اور دیگر نے بل کے خلاف عدالت میں آٹھ کے قریب درخواستیں دائر کر دی ہیں۔ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بل میں وفاقی حکومت کی مداخلت ناقابل قبول ہے ، لیز کیلئے پانچ لاکھ کی بجائے ایک کروڑ کی رقم رکھنا چھوٹے مائنز مالکان کی حق تلفی ہے ، صوبائی شیئر30فیصد رکھا جائے اور مقامی آبادی کا شیئر 10فیصد رکھا جائے۔ اب یہ معاملہ سیاسی کی بجائے عدالتی بھی ہو گیا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں ایک متوازن آواز آل پاکستان مائنز آنرز ایسوسی ایشن کی صورت میں سامنے نظر آتی ہے۔ ایسوسی ایشن نے حزب اختلاف کی جماعتوں اورحکومت کے اختلافات کو ختم کرانے کیلئے اسمبلی میں موجود حزب اختلاف کی تمام جماعتوںکو خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ اپنی سفارشات کو مرتب کر کے پیش کریں تاکہ متنازعہ شقوں کو ختم کر کے مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھا جاسکے۔اس سلسلہ میں میری آل پاکستان مائنز آنرزایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل فاتح شاہ عارف سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے بل کی شقوں کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان مائنز اینڈ منرلز بل2025ءایک مثبت بل ہے اس میں چند شقوں میں ترامیم کر لی جائیں تو تمام اسٹیک ہولڈرز ،عوام اور حکومت کو فائدہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے