بلوچستان کے جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے جائیں، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن

کوئٹہ (آن لائن) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن، یونیورسٹی آف بلوچستان نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ، جو جون میں پیش کیا جائے گا، میں صوبے کی جامعات کے لیے کم از کم 15 ارب روپے مختص کیے جائیں تاکہ ان اداروں کو درپیش سنگین مالی مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔ایسوسی ایشن کے مطابق صوبے کی جامعات طویل عرصے سے شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر معمول بن چکی ہے، جبکہ منظور شدہ الاونسز کو بتدریج ختم کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر یونیورسٹی آف بلوچستان اور دیگر جامعات کے سینئر اساتذہ کا اردلی الاونس اور تمام ملازمین کا یوٹیلٹی الا¶نس غیر قانونی طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کو گزشتہ چار سال سے پینشن کنٹریبیوشن کی ادائیگی نہ ہونا ایک نہایت سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔مزید برآں، جامعات میں اساتذہ کو میڈیکل سمیت دیگر بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔ یونیورسٹی کالونی میں رہائش پذیر اساتذہ اور ملازمین سے 5 فیصد اور ہا¶س رینٹ کی مد میں کٹوتیاں تو باقاعدگی سے کی جا رہی ہیں، مگر وہاں دیکھ بھال اور مرمت کے کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے علاوہ امتحانات اور پیپر چیکنگ کے واجبات بھی کئی سالوں سے ادا نہیں کیے گئے۔ایسوسی ایشن نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ گزشتہ بجٹ میں محض تین ارب روپے کا اضافہ کیا گیا، جو موجودہ حالات کے پیش نظر ناکافی ثابت ہوا۔ اس کے نتیجے میں مالی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے، تنخواہوں کی بروقت اور مکمل ادائیگی متاثر ہوئی ہے اور پینشنرز کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ جس طرح دیگر سرکاری اداروں، مثلاً سول سیکرٹریٹ اور گورنر سیکرٹریٹ، کے لیے باقاعدہ طور پر تنخواہوں اور پینشن کے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، اسی طرح جامعات، بالخصوص یونیورسٹی آف بلوچستان، کے لیے بھی خاطر خواہ مالی وسائل مختص کیے جائیں۔ کم از کم 15 ارب روپے سالانہ فراہم کرنا ناگزیر ہے تاکہ تعلیمی ادارے اپنے مالی مسائل پر قابو پا کر اپنی ذمہ داریاں م¶ثر انداز میں انجام دے سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں