عراق کے صحرائی علاقے میں خفیہ اسرائیلی فوجی اڈے کا انکشاف، اہم لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا، امریکی اخبار
بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کر رکھا ہے۔ اس اڈے پر نہ صرف اسرائیل کی اسپیشل فورسز تعینات تھیں بلکہ اسے اسرائیلی فضائیہ کے لیے رسد اور امدادی کارروائیوں کے مرکز کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جب مارچ کے آغاز میں عراقی فوج اس اڈے کے قریب پہنچی تو اسرائیلی فورسز نے فضائی حملوں کے ذریعے انہیں پیچھے دھکیل دیا تاکہ اس جگہ کو خفیہ رکھا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق یہ فوجی تنصیب امریکی حکام کے علم میں تھی اور اسے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے ٹھیک پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس خفیہ اڈے پر اسرائیل کی خصوصی افواج تعینات تھیں اور اسے اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک اہم لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ وہاں ریسکیو ٹیمیں بھی موجود تھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں نشانہ بننے والے اسرائیلی پائلٹوں کی مدد کی جاسکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے شروع میں یہ اڈہ اس وقت تقریباً دنیا کے سامنے آنے والا تھا جب عراق کے سرکاری میڈیا نے ایک مقامی چرواہے کے حوالے سے علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی غیر معمولی نقل و حرکت کی اطلاع دی۔ اس اطلاع پر جب عراقی فوج تحقیقات کے لیے وہاں پہنچی تو اسرائیلی افواج نے اپنی شناخت چھپانے اور اڈے کو بچانے کے لیے عراقی فوج پر فضائی حملے کیے تاکہ انہیں اس مقام سے دور رکھا جاسکے۔


