اسلام آباد میں پاکستانی وفاقی کابینہ کے وزراءکی ایرانی وزیر سے ملاقات،دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک غیر معمولی سفارتی اقدام کے طور پر، پاکستان کی وفاقی کابینہ کے چھ ارکان نے اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے میں ایران کے وزیر صنعت، کان کنی اور تجارت، محمد اتابک سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعاون کو ممکنہ حد تک اعلیٰ ترین سطح تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزارت صنعت کے مطابق، چھ سینئر پاکستانی حکام نے ایران کے ساتھ جامع تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی حکومت کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔پاکستانی وزراءمیں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری، وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک اور وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ شامل تھے۔اتابک نے دورے پر آنے والے پاکستانی وزراءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "اسلامی جمہوریہ ایران طویل مدتی تناظر میں معزز پاکستانی وزرائ کی جانب سے پیش کردہ تمام تجاویز کا خیرمقدم کرتا ہے اور کم سے کم وقت میں ایک عملی روڈ میپ (لائحہ عمل) تیار کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کرتا ہے۔”ایرانی وزیر 3 اگست کو ایک اعلیٰ سطحی اقتصادی وفد کی قیادت میں اسلام آباد پہنچے تھے تاکہ ایران-پاکستان مشترکہ تجارتی کمیٹی کے دسویں اجلاس میں شرکت کر سکیں اور پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت کر سکیں۔4 اور 5 اگست پر محیط اس دورے کا مرکز اقتصادی، تجارتی اور صنعتی تعاون کو وسعت دینا ہے۔ایجنڈے میں آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینا، اشیا کے تبادلے (بارٹر) کا نظام قائم کرنا، ٹرانزٹ (نقل و حمل) کی رکاوٹوں کو دور کرنا، پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے ایرانی کنٹینرز کی نقل و حرکت کو آسان بنانا، سرحدی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، اور چاہ بہار، گوادر اور رمدان-گابد بارڈر کراسنگ کے درمیان ریل اور سمندری رابطوں کو فروغ دینا شامل ہے۔


