بے حس معاشرے کا نوحہ
تحریر: ملک عیسی خان رند
انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے، مگر انسان کی اصل عظمت اس کے مال، منصب، طاقت یا شہرت میں نہیں بلکہ اس کے احساس، ہمدردی اور انسانیت میں پوشیدہ ہے۔
انسانی ہمدردی دراصل وہ جذبہ ہے جس میں ہم دوسرے انسان کے دکھ کو صرف دیکھتے نہیں بلکہ اسے محسوس بھی کرتے ہیں۔ جب کسی کے درد سے ہمارے دل میں درد پیدا ہو، کسی کی بھوک ہمیں بے چین کرے، کسی کی بے بسی ہمیں سوچنے پر مجبور کرے اور کسی کے آنسو ہمیں اپنے آنسو محسوس ھو، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارے اندر ابھی انسانیت زندہ ہے۔
مگر افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ رفتہ رفتہ بے حسی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہم دوسروں کے دکھ دیکھتے ہیں، چند لمحوں کے لیے افسوس کرتے ہیں، شاید ایک جملہ بھی بول دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر کسی کی مدد کے لیے آگے بڑھنے والے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں۔
آج سڑک پر کوئی حادثے کا شکار ہو جائے تو بہت سے لوگ مدد کرنے کے بجائے موبائل فون نکال کر ویڈیو بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی غریب بھوکا سو رہا ہو تو ہم اسے دیکھ کر گزر جاتے ہیں۔ کوئی بیمار علاج کے لیے ترس رہا ہو تو ہم کہتے ہیں کہ یہ حکومت کا کام ہے۔ کسی کے گھر میں فاقے ہوں تو ہم اسے اس کی قسمت کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔ یوں ہمارے اردگرد دکھ بڑھتا جاتا ہے اور ہمارے دلوں میں احساس کم ہوتا جاتا ہے۔
یہ بے حسی صرف معاشرے کا مسئلہ نہیں، یہ ہمارے ضمیر کا مسئلہ ہے۔
ہم نے انسان کو اس کی حیثیت سے پہچاننا شروع کر دیا ہے۔ امیر کے لیے ہمارے پاس وقت بھی ہے، احترام بھی اور الفاظ بھی؛ لیکن غریب کے لیے اکثر ہمارے پاس نہ وقت ہوتا ہے نہ توجہ۔ طاقتور کی تکلیف ہمیں بڑی دکھائی دیتی ہے، جبکہ کمزور کا درد ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ حالانکہ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم انسان کو اس کے لباس، دولت، عہدے، زبان، علاقے یا خاندان سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے پہچانیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک افسوس ناک رویہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کے دکھ کو اس وقت تک اہم نہیں سمجھتے جب تک وہ دکھ ہمارے اپنے دروازے تک نہ پہنچ جائے۔ جب کسی دوسرے کا بیٹا بیمار ہوتا ہے تو ہمیں شاید چند لمحوں کا افسوس ہوتا ہے، لیکن جب بیماری ہمارے اپنے گھر میں آتی ہے تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ درد کیا ہوتا ہے۔ جب کسی دوسرے کا گھر اجڑتا ہے تو ہم اسے ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر جب مصیبت ہمارے اپنے گھر پر آتی ہے تو پوری دنیا ہمیں بے حس محسوس ہونے لگتی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ مشکل وقت میں لوگ ہمارا ساتھ دیں تو ہمیں بھی دوسروں کے مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
انسانیت ہمیشہ بڑے بڑے کاموں کا نام نہیں۔ کبھی ایک نرم لہجہ بھی انسانیت ہے۔ کبھی کسی پریشان شخص کی بات خاموشی سے سن لینا بھی ہمدردی ہے۔ کبھی کسی بزرگ کو سڑک پار کرا دینا، کسی مزدور کو اس کی محنت کی پوری اجرت دینا، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دینا، کسی طالب علم کی فیس میں مدد کر دینا، کسی بیمار کے لیے خون کا انتظام کر دینا یا کسی مایوس انسان کو امید کے دو لفظ کہہ دینا بھی انسانیت ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس کسی کی مدد کرنے کے لیے بہت زیادہ دولت ہونی چاہیے، حالانکہ ایسا نہیں۔ انسانیت کے لیے دولت سے پہلے دل چاہیے۔ ایک مسکراہٹ مفت ہے، ایک دعا مفت ہے، اچھا لفظ مفت ہے، کسی کو حوصلہ دینا مفت ہے اور کسی کے درد کو سننا بھی مفت ہے۔ مگر ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی قیمت اس شخص کے لیے بہت زیادہ ہو سکتی ہے جو زندگی کے کسی مشکل مرحلے سے گزر رہا ہو۔
تعلیم کا مقصد صرف اچھی ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے۔ کسی کمزور کا مذاق اڑانا بہادری نہیں، بلکہ اس کا ہاتھ تھامنا بہادری ہے۔ کسی مجبور کو دھتکارنا طاقت نہیں، بلکہ اس کی مدد کرنا اصل طاقت ہے۔
ہمارے معاشرے میں مذہبی اور اخلاقی تعلیمات کی کمی نہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان تعلیمات کا اثر ہمارے کردار میں کتنا نظر آتا ہے؟ عبادت کے ساتھ اگر دل میں رحم نہیں، علم کے ساتھ اگر عاجزی نہیں، دولت کے ساتھ اگر سخاوت نہیں اور طاقت کے ساتھ اگر انصاف نہیں تو ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔
ایک معاشرہ اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے لوگ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی جیتے ہیں۔ جب ایک شخص گرتا ہے تو دس ہاتھ اسے اٹھانے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ جب ایک گھر میں چولہا نہیں جلتا تو دوسرا گھر خاموشی سے راشن پہنچاتا ہے۔ جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو لوگ اس کے علاج کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ساتھ دیتے ہیں۔ یہی وہ معاشرہ ہے جس میں انسانیت زندہ رہتی ہے۔
لیکن اگر ہم نے ایک دوسرے کے دکھ سے آنکھیں بند کرلیں، اگر ہمیں کسی کے آنسو نظر نہ آئیں، اگر کسی کی بھوک ہمیں پریشان نہ کرے اور کسی کی بے بسی ہمارے دل کو نہ ہلائے تو پھر ہمیں اپنے معاشرے کی ترقی کے دعووں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم بے حسی کے اس ماحول کا حصہ بنیں گے یا اپنے اردگرد انسانیت کی ایک چھوٹی سی شمع روشن کریں گے۔
دنیا کو آج شاید بڑے نعروں سے زیادہ چھوٹے چھوٹے انسانی رویوں کی ضرورت ہے جو معاشرے کو اندر سے بدل سکتے ہیں ۔
ہمیں اپنے دلوں کو زندہ رکھنا ہوگا۔ ہمیں دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنا ہوگا۔ ہمیں اپنے معاشرے کی بے حسی کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ جس دن انسان کو دوسرے انسان کا درد محسوس ہونا بند ہوگیا، اس دن معاشرہ صرف لوگوں کا ہجوم رہ جائے گا، انسانوں کا معاشرہ نہیں۔
انسانیت کسی ایک مذہب، قوم یا طبقے کی میراث نہیں؛ انسانیت ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔
اور شاید آج سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے صرف یہ نہ پوچھیں کہ
"تم کیسے ہو؟”
بلکہ کبھی رک کر یہ بھی پوچھیں:
"تمہاری مشکل کیا ہے، اور میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں؟”
یہی سوال ایک بے حس معاشرے کو دوبارہ انسانوں کا معاشرہ بنا سکتا ہے۔
کبھی کبھی انسانوں کے ہجوم میں کھڑے ہو کر انسان کو یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ آخر انسانیت کہاں چلی گئی؟
چاروں طرف لوگ ہیں، چہرے ہیں، آوازیں ہیں، رشتے ہیں، دعوے ہیں، تقریریں ہیں، مگر دلوں میں احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، مگر ایک دوسرے کا درد نہیں دیکھتے۔ ہم کسی کے آنسو دیکھتے ہیں، مگر ان آنسوؤں کے پیچھے چھپی کہانی جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔
یہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم نے انسان کو انسان سمجھنا کم کر دیا ہے۔
، ہم اکثر دوسروں کے غم اور دکھ کو دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں۔
ہماری یہ خاموشی صرف خاموشی نہیں، یہ اجتماعی بے حسی ہے۔
بعض اوقات معاشرے کی بے حسی اور ان مشکلات سے بھی زیادہ تکلیف دہ چیز اس وقت محسوس ہوتی ہے جب ایک مجبور انسان مدد کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے اور سامنے سے بے اعتنائی ملتی ہے۔
ایک شخص برسوں سے بیماری یا معذوری کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کے جسم میں طاقت نہ ہو، وہ چلنے پھرنے سے محروم ہو، اسے دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہو، مگر معاشرہ چند لمحے افسوس کرنے کے بعد اسے بھول جاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معذوری صرف جسم کی کمزوری نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی معاشرے کا رویہ انسان کو اس کی جسمانی تکلیف سے کہیں زیادہ توڑ دیتا ہے۔
اگر ایک معذور شخص کو سہارا دینے کے بجائے ہم اسے بوجھ سمجھیں، اگر ایک غریب کو عزت دینے کے بجائے اسے حقیر سمجھیں، اگر ایک بیمار کے علاج کے لیے ہاتھ بڑھانے کے بجائے ہم اس کی قسمت کا فیصلہ کر دیں، تو سوال یہ نہیں کہ وہ شخص کتنا مجبور ہے؛ سوال یہ ہے کہ ہم کتنے انسان ہیں؟
انسانیت صرف تقریروں میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے
ہم انسانیت پر تقریریں بہت کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خوبصورت جملے لکھتے ہیں، دوسروں کے دکھ پر افسوس کرتے ہیں، مذہب، اخلاق اور بھائی چارے کی باتیں کرتے ہیں، لیکن اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے سامنے کوئی ضرورت مند کھڑا ہو۔
اس وقت ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے؟
کیا ہم اس کا ہاتھ تھامتے ہیں؟
کیا ہم اس کی بات سنتے ہیں؟
کیا ہم اپنی استطاعت کے مطابق اس کی مدد کرتے ہیں؟
یا صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ "یہ ہمارا مسئلہ نہیں”؟
یاد رکھنا چاہیے کہ انسانیت کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں سے "میرا کیا تعلق؟” ختم ہوتا ہے۔
غربت جرم نہیں
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رویہ پیدا ہوگیا ہے۔ ہم غریب انسان کو اس کی غربت سے پہچانتے ہیں۔ اس کے کپڑے دیکھتے ہیں، اس کا گھر دیکھتے ہیں، اس کی جیب دیکھتے ہیں اور پھر اس کی عزت کا فیصلہ کرتے ہیں۔
حالانکہ غربت کوئی جرم نہیں۔
ایک مزدور جس کے ہاتھوں پر محنت کے نشان ہیں، شاید اس دولت مند شخص سے کہیں زیادہ عزت کے قابل ہو جو دوسروں کا حق کھا کر دولت جمع کرتا ہے۔
ایک غریب ماں جو اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر ان کے لیے روٹی کا بندوبست کرتی ہے، شاید ہماری بہت سی کامیاب کہانیوں سے زیادہ عظیم کردار رکھتی ہے۔
ہمیں انسان کی جیب نہیں، اس کا دل دیکھنا چاہیے۔
بے حسی اس وقت خطرناک ہوجاتی ہے جب انسان دوسرے کے دکھ کا عادی ہوجائے۔
روز کوئی حادثہ دیکھتے ہیں، کوئی خبر سنتے ہیں، کسی کے قتل یا موت کی اطلاع ملتی ہے، کسی خاندان کی تباہی کا قصہ سامنے آتا ہے، چند لمحے افسوس کرتے ہیں اور پھر اپنی زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔
دوسروں کا درد ہمارے لیے صرف ایک خبر بن جاتا ہے۔
ہم نے شاید دکھ کو بھی معمول بنا لیا ہے۔
اور جس معاشرے میں دوسرے کا دکھ معمول بن جائے، وہاں انسانیت آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔
ہمیں دوبارہ دل والا انسان بننا ہوگا
ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہر شخص کروڑوں روپے خرچ کرے۔ انسانیت بڑے بڑے عطیات سے نہیں، چھوٹے چھوٹے احساسات سے زندہ رہتی ہے۔
کسی بیمار کی عیادت کرلیں۔
کسی غریب کے گھر راشن پہنچا دیں۔
کسی طالب علم کی کتاب خرید دیں۔
کسی مزدور کو اس کی محنت کا پورا حق دیں۔
کسی معذور شخص کو راستہ دے دیں۔
کسی پریشان انسان کی بات سن لیں۔
کسی یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ دیں۔
اور اگر کچھ بھی نہ کرسکیں تو کم از کم اس کے دکھ کا مذاق نہ بنائیں۔
کبھی کبھی انسان کو پیسوں سے زیادہ ایک ایسا شخص چاہیے ہوتا ہے جو اس سے کہہ سکے:
"میں تمہاری تکلیف سمجھتا ہوں، تم اکیلے نہیں ہو۔”
اگر ہم ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی آنے والی نسل کو صرف ڈاکٹر، انجینئر، استاد، افسر یا کاروباری شخص بننے کی تعلیم نہیں دینی چاہیے؛ ہمیں انہیں اچھا انسان بننے کی تعلیم بھی دینی ہوگی۔
انہیں بتانا ہوگا کہ کامیابی صرف یہ نہیں کہ آپ دوسروں سے آگے نکل جائیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کسی گرے ہوئے انسان کو اٹھانے کے لیے کتنی بار پیچھے مڑے۔
اصل دولت یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنا ہے؛ اصل دولت یہ ہے کہ آپ نے اپنی دولت، وقت اور صلاحیت سے کتنے انسانوں کی زندگی آسان بنائی۔
آخر ہم سب کو ایک دن اس دنیا سے جانا ہے۔
نہ عہدہ ساتھ جائے گا، نہ دولت، نہ شہرت اور نہ طاقت۔
پیچھے صرف ہمارا کردار رہ جائے گا۔
لوگ ہمیں اس لیے یاد نہیں رکھیں گے کہ ہمارے پاس کیا تھا، بلکہ اس لیے یاد رکھیں گے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔
اگر ہم نے کسی روتے ہوئے انسان کو ہنسایا، کسی بھوکے کو کھانا دیا، کسی بیمار کا علاج کروایا، کسی معذور کا ہاتھ تھاما، کسی غریب کی عزت بچائی، کسی مایوس انسان کو امید دی تو یقیناً ہماری زندگی بے معنی نہیں تھی۔
لیکن اگر ہم ساری زندگی صرف اپنے لیے جیتے رہے، دوسروں کے دکھ سے آنکھیں بند کیے رکھیں اور ضرورت مندوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کرتے رہے کہ "ہمیں کیا؟” تو پھر ہمیں خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے:
آج ہمیں عمارتیں بلند کرنے سے پہلے اپنے کردار بلند کرنے کی ضرورت ہے۔
آج ہمیں سڑکیں بنانے سے پہلے دلوں کے درمیان راستے بنانے کی ضرورت ہے۔
آج ہمیں دولت جمع کرنے سے پہلے احساس جمع کرنے کی ضرورت ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، ہمیں ایک دوسرے کو صرف انسان سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انسانیت وہ واحد دولت ہے جو خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتی، بلکہ جتنی بانٹو، اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔
آئیں ، اپنے معاشرے کی بے حسی کے اندھیرے میں انسانیت کی ایک شمع جلائیں۔ شاید کسی ایک انسان کی زندگی میں روشنی پیدا ہوجائے۔


