جنوبی کوریا کے ہائپرسونک میزائل سسٹم کے تجربے کے بعد شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل داغ دیے
پیانگ یانگ (مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے ترجمان جنگ ڈو ینگ نے بتایا ہے کہ میزائل آج (پیر کی) صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 9 بج کر 20 منٹ پر شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ سے داغے گئے۔ ابتدائی جائزے کے مطابق میزائل تجربات کا مقصد جنوبی کوریا کے ہائپر سونک میزائل سسٹم کے کامیاب تجربے پر احتجاج کرنا اور شمالی کوریا کی دفاعی صلاحیتوں میں پیش رفت دکھانا بھی ہو سکتا ہے۔ جنگ ڈو ینگ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ شمالی کوریا نے ہائپر سونک میزائل داغے یا درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار استعمال کیے ہیں، اس حوالے سے ابھی مزید تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔1 میزائل نے کم از کم 900 کلو میٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا اور مشرقی سمندر کی جانب گیا۔واضح رہے کہ جنوبی کوریا نے گزشتہ ہفتے ہائپر سونک میزائل سسٹم کا پہلا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ اس تجربے کا مقصد میزائل کی رفتار اور پرواز کے راستے سمیت اہم ٹیکنالوجی کو جانچنا تھا، جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے بھی اس تجربے کا مشاہدہ کیا تھا۔ہائپر سونک میزائل آواز کی رفتار سے کم از کم 5 گنا تیز سفر کر سکتے ہیں اور دورانِ پرواز سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے روایتی بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں ان کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ہے۔


