بچوں کو جسمانی سزااور سود کے کاروبار پر پابندی کے بل منظور
اسلام آباد:قومی اسمبلی میں وفاقی دارلحکومت میں سود کے کاروبار پر پابندی،بچوں پر تشدد کرنے والے اساتذہ کو نوکری سے برخاست کرنے سمیت 3بل منظور کرلئے گئے جبکہ معذور افراد کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے،پانی کو آلودہ کرنے والے شخص کو 3سال تک قید، بلوغت کی عمر18سال مقرر کرنے سمیت 6بل پیش کر دئیے گئے ہیں،ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے تمام بل مزید غوروخوض کیلئے قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے۔سود سے متعلق منظور ہونے والے بل کے تحت وفاقی دارالحکومت علاقہ میں سود پر مبنی کاروبار کرنے پر پابندی ہوگی،سود کا کاروبار کرنے والے کو دس سال تک قید (کم ازکم تین سال)اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکے گی۔پانی کو آلودہ کرنے کی ممانعت سے متعلق بل میں تجویز دی گئی ہے کہ سرکاری چشمے یا آبی ذخائر کو آلودہ کرنے والے شخص کو تین سال تک قید یا ایک کروڑ روپے تک جرمانہ(کم ازکم دس ہزار)یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔پانی کو آلودہ کرنے والے شخص کو بغیر وارنٹ پولیس گرفتار کر سکے گی۔مسلم لیگ (ن) کی رکن مہناز اکبر عزیز نے علاقہ دارالحکومت اسلام آباد امتناع جسمانی سزا بل 2020منظوری کیلئے پیش کیا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے رائے شماری کے بعد بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔بل میں بچوں پر تشدد یا سزا دینے کی ممانعت کی گئی ہے، بچوں پر تشدد کرنے والے کوترقی یا انکریمنٹ کو مخصوص عرصے تک روکا جا سکے گا۔بچوں پر تشدد کے مرتکب سرکاری ملازم کو تنخواہ نہیں دی جائے گی، بچوں پر تشدد کے مرتکب شخص کو ملازمت سے برطرف بھی کیا جا سکے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے منگل کو اسمبلی اجلاس کے دوران بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے قانون سازی اور بل کی منظوری کو تاریخی اہمیت کی حامل قرار دیتے ہوئے کہاکہ اسکولوں میں بچوں پر جسمانی سزاؤں کے تدارک کے قانون سازی ناگزیر تھی۔ وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و چیئرمین پاکستان علماکونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے بچوں پر عدم تشدد کا بل پاس ہونے پر خیرمقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ اس بل کے پاس ہونے کے بعد بچوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوگی۔ معروف سماجی رہنما اور گلوکار شہزاد رائے نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کو جسمانی سزا دینے سے ممانعت کے بل کو حکومت اور اپوزیشن کا مل کر منظور کروانا بہت اچھی بات ہے۔ایک انٹرویومیں شہزاد رائے کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بہت کھلے دل کا مظاہرہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی کاوشوں سے جسمانی سزا سے بچوں کے تحفظ کا بل منظور ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشرتی رویہ ہے کہ کسی کو ڈسپلن کرنا ہو تو مار پیٹ اور سختی سے پیش آیا جائے۔


