سنگاپور کی تاریخ کے خوفناک جرائم میں سے ایک، ملزمہ کا اعتراف

سنگاپور میں گھریلو ملازمین سے انتہائی بدسلوکی اور پھر قتل کے ایک خوفناک واقعے میں مرکزی ملزمہ نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ بھارتی نژاد ملزمہ نے اپنی غیر ملکی ملازمہ کو اس طرح قتل کیا، جس کی شاید ہی کوئی دوسری مثال موجود ہو۔
سنگاپور جنوب مشرقی ایشیا کی ایک ایسی بہت چھوٹی سی لیکن انتہائی امیر شہری ریاست ہے، جہاں ایشیا کے زیادہ تر غیر ممالک سے آ کر گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد تقریباﹰ ڈھائی لاکھ بنتی ہے۔ یہ ملازمین زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں اور ان سے بدسلوکی کے واقعات بھی کوئی نئی بات نہیں ہیں۔
لیکن 40 سالہ گائتری موروگیان نے جس طرح کے جرائم کا ارتکاب میانمار سے تعلق رکھنے والی اپنی 24 سالہ ملازمہ کے ساتھ کیا، اس کی سنگاپور میں غیر ملکیوں کے خلاف جان لیوا جرائم کی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسری مثال موجود ہو۔
گائتری موروگیان نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ پیانگ گائے ڈون کے قتل کی مرتکب ہوئی تھی۔ ملزمہ نے اعتراف جرم کرتے ہوئے ایک مقامی عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے مقتولہ ملازمہ پر چھری سے حملے کیے تھے، اسے ڈنڈوں سے پیٹا تھا، اس کا جسم استری سے جلایا تھا اور پھر اس کا گلا اتنا دبایا تھا کہ پیانگ گائے ڈون کا انتقال ہو گیا تھا۔
مختلف آسٹریلوی شہروں میں گزشتہ پندرہ برسوں کے بعد رواں موسم خزاں میں مکانات کی خرید و فروخت میں حیران کن کمی واقع ہوئی ہے۔ خاص طور پر سڈنی نمایاں ہے۔ اقتصادی سرگرمیوں کے عروج کے دور میں سڈنی میں مکانات کی قیمتیں دوگنا ہو گئی تھیں لیکن اب ان میں دس فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ آسٹریلیا میں مکانات کی قیمتوں میں کمی کی ایک وجہ رہن رکھنے کے سخت ضوابط بھی ہیں۔
موروگیان کو قتل کے اس ایک جرم سے متعلق اپنے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کے 28 مختلف الزامات کا سامنا ہے۔ منگل کے روز حتمی اعتراف جرم کے بعد عدالت نے اسے مجرم قرار دے دیا۔ عدالت ملزمہ کے لیے سزا کا اعلان بعد میں کرے گی، جو کم از کم بھی عمر قید ہو سکتی ہے۔
عدالت میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق ملزمہ گائتری موروگیان اور اس کے شوہر نے، جو ایک پولیس افسر ہے، پیانگ گائے ڈون کو اپنے ہاں 2015ء میں اس لیے ملازم رکھا تھا کہ وہ ان کی چار سالہ بیٹی اور ایک سالہ بیٹے کی دیکھ بھال کر سکے۔
اس کے بعد ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک گائتری موروگیان اپنی اس ملازمہ کو ہر روز پیٹتی رہی۔ کبھی کبھی تو دن میں کئی کئی مرتبہ اور اس جرم میں گائتری کی 61 سالہ ماں بھی شامل ہو جاتی تھی۔
اس برس دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ جاپان کا ہے جس کی مدد سے 190 ممالک کا سفر ویزا حاصل کیے بغیر کیا جا سکتا ہے۔
یہ انہی خوفناک مظالم اور تشدد کا نتیجہ تھا کہ پیانگ گائے ڈون جولائی 2016ء میں اس وقت انتقال کر گئی تھی، جب ایک روز ملزمہ گائتری اسے ‘پاگلوں کی طرح‘ کئی گھنٹوں تک ‘پیٹتی، اس پر حملے کرتی، اسے ایذا پہنچاتی اور اس کا جسم استری سے جلاتی‘ رہی تھی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا، ”یہ بات عدالت کے لیے گہری تشویش کا باعث ہونا چاہیے کہ کوئی انسان، وہ بھی ایک عورت کسی دوسری عورت سے، اس طرح کا شیطانی اور غیر انسانی سلوک کس طرح کر سکتی ہے؟‘‘
عدالتی ریکارڈ کے مطابق گائتری موروگیان پیانگ گائے ڈون پر اتنا ظلم کرتی تھی کہ اسے کھانے کے لیے خوراک بہت کم دی جاتی تھی، سونے کے لیے وقت بھی بہت ہی کم اور ملزمہ کے گھر ملازمت کے صرف ایک سال کے اندر اندر میانمار سے تعلق رکھنے والی اس جوان عورت کا جسمانی وزن تقریباﹰ 40 فیصد کم ہو گیا تھا۔
رواں برس برس اپریل تک کے اعداد و شمار کے مطابق قوت خرید میں مساوات کے اعتبار سے جی ڈی پی کو پیش نظر رکھتے ہوئے 25.24 ٹریلین امریکی ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر چین ہے۔ سن 2017 کے مقابلے میں چینی اقتصادی نمو نو فیصد رہی۔
آخری دنوں میں تو مقتولہ پر اتنا ظلم کیا گیا تھا کہ موت کے وقت اس کا جسمانی وزن صرف 24 کلو گرام رہ گیا تھا۔
سنگاپور میں جرم ثابت ہونے پر کسی بھی قاتل کو عام طور پر سزائے موت سنائی جاتی ہے لیکن استغاثہ کی طرف سے گائتری موروگیان کے لیے عمر قید کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملزمہ کئی طرح کے جسمانی اور ذہنی مسائل کا شکار رہی ہے، جن میں سے ایک ڈپریشن بھی تھا
پولیس کے مطابق اسی قتل کے سلسلے میں گائتری کے شوہر کو بھی اپنے خلاف کئی طرح کے الزامات کا سامنا ہے کیونکہ اس کے گھر پر غیر ملکی ملازمہ کے خلاف جرائم کا ارتکاب اس کی موجودگی میں بھی ہوتا رہا اور اسے یہ سلسلہ اس لیے بھی رکوانا چاہیے تھا کہ وہ سنگاپور پولیس کا ایک افسر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں