عدالتی فیصلے کا انتظار
اسے المیہ ہی کہا جائے تو مناسب ہوگا کہ ملکی سیاست (یا دوسرے لفظوں میں پارلیمنٹ) مختصروقفوں کے بعد عدالت کے کٹہرے میں کھڑی نظر آتی ہے۔متعد بار غیر جمہوری ادوار میں یہ مناظر دیکھنے کو ملے، لیکن عام آدمی نے ایک باراپنی آنکھوں سے یہ بھی دیکھا کہ ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ خود کالا کوٹ پہن کر جمہوری حکومت کے خلاف عدالت میں کھڑے نظرآئے۔آج کل سپریم کورٹ میں صدر مملکت کاجاری کردہ ایک ایسا آرڈیننس زیر سماعت ہے جس میں یہ شرط بھی درج ہے کہ اگر عدالت نے اجازت دی تب نافذ ہوگا۔بظاہر اس آرڈیننس کا مدعا یہ ہے کہ سینیٹ کے آدھے سینیٹرز 11 مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے اور ان خالی ہونے والی سیٹوں پر انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے مگر الیکشن کمیشن سینیٹ کے انتخابات میں corrupt practices رکوانے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔نہ ووٹ بیچنے والے اراکین اسمبلی(صوبائی اور قومی دونوں)کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی اور نہ ہی ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں سمیت (سوائے پی ٹی آئی) کسی نے ووٹ بیچنے والوں کے خلاف کوئی اقدام کیا۔پیسے دے کر سینیٹر بننے والوں کی طرف سینیٹ کی 48 سالہ تاریخ(1973تا2021)میں آنکھ اٹھا کربشمول الیکشن کمیشن کسی میں دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔corrupt practicesکے ذریعے منتخب ہو کر سینیٹر بننے والے نہ صرف معزز اراکین پارلیمنٹ کہلائے بلکہ وزیر بن کر کابینہ کا حصہ بھی رہے۔اپنی کرپٹ سوچ کے ساتھ ملک کے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے تھے،اور جو کچھ کر سکتے تھے کیا۔اقتصادی لحاظ سے ملک کہاں کھڑاہے؟یہ انہیں سینیٹرز اور اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کی کارکردگی(corrupt practices) کا نتیجہ ہے۔ قرضوں کی ادائیگی غریب عوام اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر کر رہے ہیں۔پیٹرول، ڈیزل، گیس اور بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکس عوام ادا کرتے ہیں۔کرپٹ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے منتخب کردہ سینیٹرز نہیں کرتے۔پی ٹی آئی میں بھی سب فرشتے نہیں ہیں،جہانگیرترین جیسے ”اے ٹی ایم“ بھی موجود ہیں۔حالیہ خرید و فروخت میں ان کی جہاں بھی ضرورت ہوئی وہ اپنی خدمات پیش کریں گے۔انہوں نے اقرار کیاہے کہ کل بھی پی ٹی آئی کا وفادار تھا، آئندہ بھی (وفادار) رہوں گا۔ڈسکہ کی سیٹ پر الیکشن کمیشن کے عملے نے جو کردار ادا کیا، سب کے سامنے ہے۔ایسے ماحول میں مبصرین کے لئے سیاست میں دلچسپی کا سامان عدالتی فیصلے تک سکڑ گیا ہے۔عدالتی ریمارکس دیکھ کر کچھ کہنا آسان نہیں، سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پارلیمنٹ اس معاملے میں کسی قسم کی رہنمائی کرتی نظر نہیں آتی۔ پارلیمنٹ عدلیہ کو صرف ایک بات سمجھنا چاہتی ہے کہ جو آئین میں لکھا اسے اسی انداز میں پڑھا جائے۔بین السطور پارلیمنٹ یہ کہہ رہی ہے کہ عدالت بھیcorrupt practices کے حوالے سے اپنی آنکھیں بند رکھے۔ جہاں آئین خاموش ہے، وہاں الیکشن کمیشن سمیت تمام آئینی ادارے صرف اور صرف وہی کچھ کریں جو گزشتہ48سال سے کرتے چلے آئے ہیں۔عوام کا مفاد اسی میں ہے کہ ماضی کی اس مستحکم روایت کو نہ چھیڑا جائے۔اراکین پارلیمنٹ پیسوں کے حوالے سے خاموش ہیں تو دیگر آئینی ادارے بھی خاموش رہیں۔جس ملک میں وکلاء برادری اپنے چیف جسٹس کو 5گھنٹے لگاتار اپنے دفتر میں محصور رہنے پر مجبور کر سکتی ہو وہاں قانون کی حکمرانی کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ابھی تک یہ بھی طے نہیں کیا جاسکا کہ بینچ اور بار کے تعلقات کیسے ہوں؟اسلام آباد کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ کایہ بیان ریکارڈپرہے، دیکھاجا سکتاہے کہ آدھے سے زیادہ حملہ آوروں کو وہ پہچانتے ہیں،مگر کسی کا نام نہیں لیں گے، بار خود بتائے، ورنہ جے آئی ٹی کھوج لگائے گی۔انہوں یہ بھی کہاہے کہ 5گھنٹے تک محصور رہے اور اس دوران وہ وکلاء کے ہاتھوں قتل ہونے کے لئے ذہنی طور پر تیار تھے۔چنانچہ حقیقت پسندی کا تقاضہ ہے کہ کسی بحث مباحثے کے بغیرمان لیا جائے کہ پاکستان میں تمام ادارے اخلاقی پستی کا شکار ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ اصلاح احوال کے لئے سنجیدگی سے کچھ کیا جائے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کاآئین اگر ایک باوقار اورقابل اعتمادریفرنڈم کا بوجھ اٹھا سکتا ہے تو عوام سے براہ راست پوچھ لیا جائے:
کیا وہ corrupt practicesکی حمایت کرتے ہیں؟
اپنا جواب ”ہاں“ یا ”ناں“کی صورت میں دیں۔
ہرووٹر اپنے کمپیوٹرازڈ قومی شناختی کارڈ نمبر کی تصدیق (اورووٹر کا رجسٹریشن نمبراور سینٹرکا حوالہ موصول ہونے کے بعد)، الیکشن کمیشن کی جانب سے دیئے گئے خصوصی نمبرپر میسیج کر دے۔کسی ووٹر کوپولنگ اسٹیشن جانے کی ضرورت نہ ہو۔اکثریتی فیصلہ رجسٹرڈ ووٹرز کی دو تہائی تعداد سے کم نہ ہو۔ایک شناختی کارڈ پر صرف ایک جواب بھیجنے کا عمل یقینی بنانے کے لئے ووٹر کے انگوٹھے کا نشان لازمی قرار دیا جائے۔یہ مشین ووٹر کے گھر تک لانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن سنبھالے۔عوامی ریفرنڈم کاجواب آجانے کے بعد پارلیمنٹ محدود مدت میں تمام ضروری آئینی ترامیم اور قانون سازی کرنے کی پابند ہو۔مطلوبہ آئینی ترامیم اور قانون سازی کے فوراً بعد ملک بھر میں بلدیاتی سطح سے سینٹ تک آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات اسی مشینی طریقے سے کرائے جائیں۔corrupt practicesکا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لئے ملک اور عوام کو اس تطہیری عمل سے گزارنا ضروری ہو گیا ہے، اس کے بغیر ممکن نہیں کہ کئی دہائیوں کا جمع شدہ گندصاف ہوسکے۔اس مقصد کے حصول کے لئے تمام عوام دوست ماہرین قانون،ماہرین معیشت،سیاست دان،دانشور، ادیب، اورشاعر corrupt practicesسے نجات کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔اس لئے کہ مافیاز سے چھٹکارہ پانا آسان نہیں۔مافیاز کے عالمی سرپرست کسی قدر کمزور ہونے کے باوجود تا حال فعال ہیں،سرگرم اور با اثرہیں۔ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد 3مارچ کو معلوم ہو جائے گا کہ فیصلہ سینیٹ میں ماضی کی اس مضبوط اور مسلمہ روایت کوختم کرنے میں کس حد تک کامیاب رہا؟


