لاپتہ افراد کا معاملہ جلد حل ہونے کا عندیہ

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجرجنرل بابر افتخارنے غیر ملکی میڈیاسے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ لاپتہ افرادکا معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔لا پتہ افرادکے بننے والے کمیشن نیبہت پیش رفت کی ہے، اس کمیشن کے پاس 6ہزار سے زائد افراد کے گم شدہ ہونے کے مقدمات تھے جن میں سے 4ہزار حل کئے جا چکے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان کے بعد ان لاپتہ افراد کے خاندان کے لئے ایک امید پیدا ہونا فطری امر ہے جنہیں برسوں سے یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے پیارے کس حال میں ہیں؟زندہ ہیں یا اس دنیا میں نہیں رہے؟وقتاً فوقتاً بعض افراد کی تشدد زدہ اور مسخ شدہ لاشیں بھی ملتی رہی ہیں جو اس روحانی دکھ اور اذیت میں مزید اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ ابھی یہ سلسلہ تھما نہیں۔پریشاں حال والدین اور عزیز و اقارب نے اس ضمن میں اسلام آباد میں بھی احتجاجی کیمپ لگا کر حکومت کی توجہ اس معاملے کی طرف مبذول کرنے کی کوشش کی، لیکن تا حال ان دکھی خاندانوں کوکوئی تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔یقینا یہ ایک حساس مسئلہ ہے،جتنی جلدی ممکن ہو اسے حل کر لیا جائے۔بوڑھے والدین کے بڑھاپے کا سہارا ان کے جوان بیٹے ہوتے ہیں، اگر وہ لا پتہ ہوجائیں تو ضعیف العمری اس صدمے کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔بلوچستان کی سیاسی پارٹیاں بھی اس مسئلے پر جوان کے بس میں ہے اپنا کرداراداکرتی رہی ہیں۔وفاقی حکومت سے تحریری یقین دہانی حاصل کرکے اس کی اتحادی بھی رہی ہیں۔لیکن کوئی امد افزاء پیش رفت نہ ہونے کے باعث انجام کار اتحاد ٹوٹتے رہے۔اب ڈی جی آئی پی آر نے غیر ملکی میڈیا کے روبرو یہ معاملہ حل جلد ہوجانے کی امید دلائی ہے تو یہی سمجھنا چاہیئے کہ اس پیچیدہ مسئلے کا کوئی قابل عمل حل تلاش کر لیا گیا ہے یا اس کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ ظاہر ہے دنیاامید پر قائم ہے،وقت ایک جگہ ساکت و جامد نہیں رہتا، وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی وسماجی تقاضے بھی اپنی شکل اور ہیئت کسی حد تک تبدیل کرلیتے ہیں۔جو معاملہ ابتداء میں حل ہوتا نظر نہیں آتا،وہی حالات تبدیل ہونے کے بعد محسوس ہوتاکہ ایساراستہ موجود ہے جس پر فریقین متفق ہو سکتے ہیں اور بیشتر معاملات میں حل نکال لیا جاتاہے۔معروضی حالات بھی فریقین کی رہنمائی میں اہم کردار اداکرتے ہیں۔ تجربات بھی علم ودانش میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔زمینی حقائق سے تا دیر آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ بلوچستان اور وفاق کے درمیان بعض امور پر اختلافات کا پیدا ہونا کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔لیکن بیوروکریسی بعض ظاہری اور بعض باطنی عوامل کے زیر اثرسیاسی و فکری الجھنوں کو دور کرنے میں ناکام رہی جبکہ علاقائی اور تہذیبی پس منظر کو مناسب انداز میں نہ دیکھنا بھی ان رنجشوں میں اضافے کا سبب بنا۔ لیکن تاریخ یہی بتاتی ہے کہ انسان اپنی عقل و شعور سے کام لے کر آگے بڑھنے کی تدبیر کر لیتا ہے۔پاکستان بھی اپنا ارتقائی سفر جاری رکھے ہوئے ہے،وفاق اور بلوچستان دونوں نے طویل مسافت طے کی ہے۔آج ذرائع مواصلات اتنے تیز رفتار ہیں کہ آپس میں غلط فہمیاں پیدا کرنے والوں کا کام ماضی کے مقابلے میں مشکل ہوگیاہے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی لا پتہ افراد کے لواحقین سے جلد ہی ملاقات کرنے کا کہا تھا۔اگر دونوں بیانات کو یکجا کرکے دیکھا جائے تویہی لگتا ہے کہ اب اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے بارے میں مقتدر حلقوں میں سنجیدگی سے سوچا جارہا ہے۔ادھر لاپتہ افراد کے کمیشن نے دو تہائی افراد تک پیشرفت کر کے اس مایوسی کی شدت کو خاصی حد تک کم کر دیا ہے۔تاہم اس سے انکار نہیں کیا سکتا کہ 2ہزار افراد کا لاپتہ ہونا بھی اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ حل ہونا ہی کافی نہیں، ان عوامل کا خاتمہ بھی ضروری ہے جو اس مسئلے کوجنم دیتے ہیں۔ان بنیادی رنجشوں کا ازالہ کیا جانا ہی حقیقی اوردیرپا حل دے سکتا ہے۔احساس محرومی ایک نظر آنے والا معاملہ 18ویں ترمیم کے بعد ہے۔وفاق سے متعدد شعبے صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں، ان میں تعلیم،اورصحت ایسے بنیادی شعبے ہیں جوآئینی تقاضوں کے مطابق کام کرنا شروع کر دیں تو عام آدمی خود محسوس کر لے گا کہ ریاست اپنے فرائض ادا کررہی ہے۔بچوں کو جدیددورکی ضروریات کے مطابق علم کے زیور سے آراستہ کردیاجائے تومستقبل کے حوالے سے پائی جانے والی بے چینی کا ازالہ ہوسکتا ہے۔بلوچستان کے قوم پرست رہنمامحمود اچکزئی دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں:”میں بلوچوں کا ماما ہوں، حقوق دو بندوق رکھنے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ ملک کو چلانے کا واحد راستہ آئین کی پاسداری، پارلیمنٹ کی بالا دستی، تماماقوام کے ساحل اور وسائل پر ان کا حق و اختیار تسلیم کرنے میں ہے۔پاکستان کا ایٹمی ملک ہونے کے باوجود کنگال ہونا ہم سب کے لئے باعث شرم ہے۔یہ گارنٹی دی جائے کہ بلوچ کی سرزمین اور ان کے ساحل اور وسائل پرآئینی حق بلوچ کے بچوں کا ہوگا۔ ہمارے ملک میں صرف سندھ واحد صوبہ ہے جہاں سندھی میں تعلیم دی جاتی ہے اسی طرز پر لشتون بچوں کو بنیادی تعلیم پشتو، بلوچ بچوں کو بروہی اور بلوچی میں، سرائیکی کو سرائیکی میں اور پنجابی کو پنجابی میں تعلیم دیجائے۔اگر ایک چرواہے کو بھی اس کی زبان سکھائی جائے تو وہ بھی مالداری اور بکریوں کی دیکھ بھال پر کتاب لکھ دے گا۔قرآن(سورۃ ابراہیم) میں کہ اَللہ نے ہرقوم میں اس کی زبان بولنے والے نبی بھیجے۔ایک زبان کی ضد کی وجہ سے ہماری مادری زبانوں کی ترقی رک گئی۔جب لیگ آف نیشن بنی تھی تو پوری دنیا میں آزاد ملکوں کی تعداد60تھی، آج192تک پہنچ چکی ہے۔ ڈر ہے ناانصافی ختم نہ ہوئی تو ایک مرتبہ پھر یہ حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر بیٹھیں اور طے کریں ملک کو کس طرح چلانا ہے۔لا پتہ افراد کے مسئلے کا حل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وفاق اور صوبوں نے مل کر ملک کو چلانا ہے۔ معاملات کو سدھارنے خواہش موجود ہے، معاملات کو سدھارا جاسکتاہے۔اس ضمن میں سستی سے کام نہ لیا جائے،کسی بگاڑ کے پیدا ہونے سے پہلے ہی جو کرنا ہے،کر لیاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں