پشتونخوا میپ نے اپنے دور حکومت میں جو کام کئے وہ ماضی میں نہیں ہوئے، نصراللہ زیرے
کوئٹہ:پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ورکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خا ن زیرے نے حلقہ پی بی31کے علاقے تختانی بائی پاس کلی شیر گل خلجی ٹاؤن بھوسہ منڈی اور کلی جلات خان کالونی میں الگ الگ بجلی کے ٹرانسفارمرز اور کھمبوں کی تنصیب کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخوامیپ نے اپنے دور حکومت میں جو ترقیاتی کام کیئے وہ ماضی میں نہیں ہوئے ہیں جس کی گواہی ہماری عوام دے رہی ہیں اور آج کے ٹرانسفارمرز اور بجلی کے پولز کی تنصیب سے علاقے کے لوگوں کو مزید بجلی کی سہولت میسر آئیگی۔ اجتماعات سے علاقائی سیکرٹری حمد اللہ بڑیچ، محمد نعیم اچکزئی، حاجی دوست محمد، نذیر اچکزئی، حاجی عظیم، محمد اکرم ودیگر مقررین نے خطاب کیا۔ اس سے پہلے پارٹی رہنماء جب علاقے میں پہنچے تو ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا پھول کی پتیاں نچاور کی گئی اور باقاعدہ فیتہ کاٹ کر رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے نے ٹرانسفارمر اور پولز کی تنصیب کا افتتاح کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018کے انتخابات میں جس طرح دھاندلی کی گئی اور سلیکٹڈ لوگوں کو عوام پر مسلط کیا گیا آج اس کی وجہ سے ملک کے کروڑوں عوام عذاب میں مبتلا ہے۔ مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کیا ہے اور لوگ نان شبینہ کیلئے مجبور ہیں۔ اسی طرح امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے عوام کو جان ومال کے تحفظ کے سنگین مسئلے سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں سے نجات کیلئے ضروری ہے کہ ملک کے تمام عوام پاکستا ن ڈیموکریٹک موومنٹ کی کال پر لبیک کہتے ہوئے 26مارچ کی لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کریں تاکہ لانگ مارچ کے ذریعے ان حکمرانوں کا خاتمہ ہوسکے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخوامیپ نے اپنے دور حکومت میں جو کام کیئے وہ علاقے کے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے فائندہ مند اور ان کے مسائل میں کمی کا سبب بنے۔ ایسے عوامی فلاح وبہبود کے اسکیمات کی تکمیل عوام ہی کے مطالبے پر کیئے گئے جن میں ہر شعبہ زندگی بالخصوص تعلیم، صحت، آبنوشی کے شعبے میں نمایاں کام کیئے گئے۔ حلقے میں پانی کی قلت کو مد نظر رکھتے ہوئے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے2بڑے ڈیمز تعمیر کیئے گئے اور گھر گھر پانی پہنچانے کیلئے جہاں ضرورت پڑی عوام کی نشاندہی پر وہاں پر واٹرسپلائی اسکیمات کی تنصیب کی گئی جس سے گھروں تک پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں ہزاروں بے تعلیم بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے کیلئے پہلے مرحلے میں 25کے قریب نئے پرائمری سکولوں کیلئے زمین کی خریداری کرنے،سکول کی تعمیر، اساتذہ کی فراہمی اور پھر باقاعدہ سکول میں تعلیمی سلسلے کو فعال کرنے تک کے مرحلے سے ہزاروں بچے اور بچیاں آج ان سکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی انٹر بوائز کالج اور اروشاد عبدالرحیم مندوخیل کے نام سے بوائز اور گرلز لائبریوں کی تکمیل بھی تعلیمی شعبے میں اہم اقدامات ہیں۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بنیادی ہیلتھ مراکز کی تعمیر، وہاں ایمبولینس کی فراہمی، ڈاکٹر کی حاضری اور روزانہ کی بنیادپر مریضوں کاعلاج ومعالجہ اور ادوئیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ گیس پریشر کی کمی اور نئے علاقوں میں کنکشن کی فراہمی کیلئے مسلسل پہلے روز سے کیسز کی منظور ی،سروے کرانا، ان کے ٹینڈر کر مرحلہ پھر گیس پائپ لائن بچھانے تک کا مرحلہ پائے تکمیل تک پہنچایا گیا۔مواصلاتی نظام میں مختلف سڑکوں کی تعمیر، مختلف سڑکوں کو لنک کرنے، بلیک ٹاپ، گلی محلوں کی سطح پر ٹف ٹائل وغیرہ کی تکمیل اور سب سے بڑھ کر مشرقی بائی پاس کے سنگل روڈ کو سیٹلائٹ ٹاؤن چالو بہاوڑی سے سبی روڈ تک ڈبل روڈ بنایا گیا۔ اور مسلم اتحاد کالونی کے سیلابی نالے کو پختہ کیا گیا۔اور توانائی کے شعبے میں حلقے میں ایسے علاقے موجود تھے جنہیں 21ویں صدی میں بھی بجلی جیسی سہولت سے محروم رکھاگیا تھا ان علاقوں میں بجلی کے پولز اور ٹرانسفارمز، تاروں کے بچھانے اور گھر گھر تک بجلی کی سہولت فراہم کرنے کیلئے پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے کی کاوشیں، محنت، عوامی لگن قابل تحسین اور قابل تقلید ہے اور عوام کو اپنے منتخب کردہ نمائندے اور اپنی پارٹی پشتونخوامیپ پر فخر ہے جس نے بلا امتیاز تمام عوام کی خدمت کی۔


