کملا ہیرس نے عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تفتیش کی مخالفت کر دی
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی نائب صدر کملا ہیرس نے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یا ہو سے پہلی بار ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اسرائیل کے وزیراعظم کو اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت کو اسرائیل کیخلاف جنگی جرائم کی تفتیش کا اختیار نہیں۔دونوں رہنماو?ں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کہا کہ اسرائیل ا?ئی سی سی (عالمی فوجداری عدالت) کا رکن نہیں اس لیے عدالت اسرائیل کے خلاف تفتیش کا اختیار نہیں رکھتی لیکن اس کے باوجود ججز نے پراسیکیوٹر کو تفتیش کی اجازت دیدی ہے۔اس سے قبل امریکا کے وزیر خارجہ انتھونی بلینکن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ امریکا عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تفتیش کی مخالفت کرتا ہے۔یاد رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے امریکا اور اسرائیل کے اس مو?قف کو رد کرتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ عدالت کو فلسطین پر اختیار حاصل ہے جد پر اسرائیل نے بعد میں ناجائز قبضہ کیا جسے اب تک تسلیم بھی نہیں کیا گیا ہے۔عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے اس فیصلے کے بعد پراسیکیوٹر فتوؤ بینسودا نے دو روز قبل ہی اسرائیل کے خلاف فلسطین میں جنگی جرائم کی تفتیش کا ا?غاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ میں فوجی کارروائیاں اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری جنگی جرائم کی تفتیش کے لیے ٹھوس جواز مہیا کرتی ہیں۔


