بھاگ، واحد ڈگری کالج میں لکچرار کی کمی سے طلباء کا مستقبل تاریک ہے، عوامی حلقے
بھاگ:تحصیل بھاگ کا واحد ڈگری کالج جس میں لیکچرار کی کمی طلبا کی تعلیم ادھوری طلبا گھنٹوں بیٹھ کر کچھ سیکھے بغیر لوٹنے پر مجبور تعلیم میں پیچھے رہ جانے کا خوف والدین پریشان طلبا کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ نوٹس لیا جائے سٹوڈنٹس و عوامی حلقے رپورٹ کے مطابق تحصیل بھاگ کا واحد کالج جس کو ڈگری کالج کا درجہ ملے ہوئے سات سال ہوچکے ہیں لیکن تاحال کالج اساتذہ کی کمی کا شکار ہے جہاں 32 لیکچرار کی ضرورت ہے وہاں 12 لیکچرار فرائض سر انجام دے رہے ہیں تعلیم میں اہمیت کا حامل سبجیکٹ انگلش کا کوئی لیکچرار موجود ہی نہیں سوشیالوجی اردو اسلامیات کی آسامیاں کافی عرصے سے خالی ہیں اسی طرح گرلز سٹوڈنٹس کیلیے میل لیکچرار سے ڈبل ڈیوٹی لیکر فارملٹی پوری کی جارہی ہے طلبا کو ہاسٹل کی سہولت میسر نہیں حکومتی عدم توجہی سے اساتذہ کی تعداد کم ہے جسکی وجہ سے طلبا گھنٹوں بیٹھ کر کچھ سیکھے بغیر واپس لوٹنے پر مجبور ہیں جبکہ رہی سہی کثر کرونا وبا نے بندش کی صورت میں پوری کردی صورتحال برقرار رہنے سے بھاگ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جائے گااساتذہ کی عدم تعیناتی سے طلبا کا مستقبل داو پر لگ گیا ہیمتعلقہ انتظامیہ کی غفلت کے باعث والدین بچوں کے مستقبل کیلیے پریشان ہیں امیدیں اور خواب ادھورے رہ گئیہیں صورتحال نے والدین کو ذہنی مریض پریشانی میں مبتلا کردیا ہے تحصیل بھاگ کے طلبا کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے جبکہ طلبا کے والدین کالج کی سنگین صورتحال سے اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں سٹوڈنٹس اور عوامی حلقوں نے صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند سیکریٹری تعلیم ڈائریکٹر کالجز اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کالج میں جلد اساتذہ تعینات کرکے طلبا کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جائے۔


