ٹی بی سے مکمل نجات اس کا بروقت علاج ہی سے ممکن ہے، ڈی جی ہیلتھ بلوچستان
کوئٹہ: ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان ناصر علی بگٹی، ٹی بی کنٹرول پروگرام کے صوبائی جنرل منیجر ڈاکٹر ناصر شیخ و دیگر نے کہا ہے کہ وزیراعلی جام کمال اور سیکرٹری صحت نورالحق بلوچ کی ہدایت کی روشنی میں ایک نئے عزم کے ساتھ ٹی بی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں، ٹی بی جیسے مہلک مرض پر قابو پانے اور اس کے خاتمے کا واحد حل ٹی بی کے ممکنہ مریضوں کی بروقت اور مکمل نشاندہی ہے، صوبے کے تمام اضلاع میں ٹی بی کے 138سینٹروں میں ٹی بی مریضوں کی تشخیص سے لے کر مکمل علاج تک کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جبکہ مزاحمتی ٹی بی کے مریضوں کو دوران علاج فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال اور ڈی ایچ کیو لورالائی میں مناسب خوراک اور سفری خرچ کے لئے رقم بھی دی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی بی کے عالمی دن کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں صوبائی ڈپٹی مینیجر ٹی بی کنٹرول پروگرام بلوچستان ڈاکٹر سمین گل، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر اسفندیار شیرانی، ٹیم لیڈر ایم سی ساوتھ ڈاکٹر سعید اللہ خان ودیگ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔صوبائی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ناصر بگٹی، صوبائی مینیجر ٹی بی کنٹرول پروگرام حکومت بلوچستان ڈاکٹر ناصر شیخ و دیگر نے کہا ہے کہ ٹی بی کنٹرول پروگرام حکومت بلوچستان وزیراعلیٰ جام کمال اور سیکرٹری صحت نورالحق بلوچ کی ہدایت کی روشنی میں ایک نئے عزم کے ساتھ ٹی بی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے، ٹی بی جیسے مہلک مرض پر قابو پانے اور اس کے خاتمے کا واحد حل ٹی بی کے ممکنہ مریضوں کی بروقت اور مکمل نشاندہی ہے، صوبے کے تمام اضلاع میں ٹی بی کے 138سینٹروں میں ٹی ب ی مریجوں کی تشخیص سے لے کر مکمل علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جبکہ مزاحمتی ٹی بی کے مریضوں کو دوران علاج فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال اور ڈی ایچ کیو لورالائی میں مناسب خوراک اور سفری خرچ کے لئے رقم بھی دی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی بی کے عالمی دن کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں صوبائی ڈپٹی مینیجر ٹی بی کنٹرول پروگرام بلوچستان ڈاکٹر سمین گل، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر اسفندیار شیرانی، ٹیم لیڈر ایم سی ساوتھ ڈاکٹر سعید اللہ خان ودیگ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہر سال 24مارچ کو عالمی سطح پر ورلڈ ٹی بی ڈے منایا جاتا ہے جو 1882کے اس دن کی یاد دلاتا ہے جب جرمن سائنس دان ڈاکٹر رابرٹ کاک نے ٹی بی کے سبب بننے والے جرثومے کا پتہ لگایا تھا۔ انہوں ں ے کہا کہ یہ دن منانے کا مقصد عام لوگوں میں ٹی بی کے مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرنا اور سال نو میں ٹی بی کے علاج اور روک تھام سے متعلق کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی ایک مہلک اور سو فیصد قابل علاج مرض ہے صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگرام سال 2021میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور سیکرٹری صحت نورالحق بلوچ کی ہدایت کی روشنی میں ایک نئے عزم کے ساتھ ٹی بی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی بی کے مرض کے خاتمے کے لئے اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنا ضروری ہے کیونکہ ایک مریض سال میں 10سے 15مزید لوگوں کو یہ مرض منتقل کرسکتا ہے اس لئے ٹی بی کے مریضوں کی بروقت نشاندہی،مناسب اور مکمل علاج اس مہلک مرض کے خاتمے کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی بی کنٹرول پروگرام عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ طریقہ کے مطابق 5سالہ اسٹریٹیجک منصوبے پر عمل پیرا ہے، صوبے کے تمام اضلاع میں قائم 138سینٹروں میں ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص سے لے کر علاج کی سہولیات مفت فراہم کی جارہی ہے اور 32سینٹروں کو ٹی بی کی تشخیص کے لئے جدید Gene-Xpertمشینیں مہیا کی گئی ہیں جبکہ 16اضلاع میں پی پی ایم یعنی گورنمنٹ اور نجی شعبہ میں کام کرنے والے اداروں کے اشتراک سے ڈھائی سو سے زائد پرائیویٹ ڈاکٹروں کو ٹی بی کے مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی بی کنٹرول پروگرام اپنے شراکت داروں مرسی کور، انڈس ہسپتال کراچی، ایس اپی او اور گرین سٹار سوشل مارکیٹنگ کے تعاون سے ٹی بی سے جلد متاثر ہونے والے افراد، خاندان، قیدیوں او رمنشیات کے عادی افراد کے لئے تشخیصی ٹیسٹ کے لئے خصوصی کیمپوں کا انعقاد کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرزاحمتی ٹی بی جس کا علاج نہ صرف مہنگا ہے بلکہ مشکل بھی کے مریضوں کو فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال اور ڈی ایچ کیو لورالائی میں دوران علاج مناسب خوراک اور سفری خرچ کے لئے رقم بھی دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی کے خاتمے کے لئے عوام میں شعور اجاگر کرنا نہایت ہی ضروری کے لئے محکمہ صحت، ٹی بی کنٹرول پروگرام سمیت میڈیا کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ اس مہلک مرض کے مکمل خاتمہ ممکن ہوسکے۔


