سرکاری ملازمین کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا، ٹریفک جام ہونے سے شہری مشکلات کا شکار

کوئٹہ:صوبائی حکومت کے ہزاروں سرکاری ملازمین کی جانب سے بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کی کال پر تنخواہوں میں اضافے ودیگر مطالبات کیلئے عبدالستار ایدھی چوک پر تیسرے روز بھی دھرنا جاری رہا،دھرنے سے شہر بالخصوص ایدھی چوک اور گردونواح میں ٹریفک کانظام شدیدمتاثر لوگوں کومشکلات کاسامنا کرناپڑرہاہے۔منگل کے روز کوئٹہ کے عبدالستار ایدھی چوک پر بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کی کال پر صوبائی حکومت کے ہزاروں ملازمین کادھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا،دھرنے میں شریک ملازمین نے رات دھرنے کے مقام پر گزاری دھرنے سے صوبائی دارالحکومت میں معمولات زندگی متاثر ہوئے اور گورنر اور وزیراعلی ہاس جانے والی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیاہے دھرنے میں دیگر اضلاع سے کوئٹہ پہنچنے والے صوبائی حکومت کے ملازمین نے بھی شرکت کی۔مظاہرین نے ریڈ زون میں دھرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ضلعی انتظامیہ نے بھاری ٹرکوں کی مدد سے وہاں جانے والی سڑکیں بند کردی تھیں، علاوہ ازیں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی۔احتجاج کے باعث تمام ضلعی اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ ساتھ سول سیکرٹریٹ میں سرکاری امور معطل رہے، مظاہرین نے سول سیکریٹریٹ میں صوبائی سیکریٹریز کی گاڑیاں بھی نہیں داخل ہونے دیں۔علاوہ ازیں اکثر سرکاری اسکول بھی بند رہے کیوں کہ احتجاج میں اساتذہ نے بھی شرکت کی، حتی کے سول ہسپتال کی بھی سڑک بند کردی گئی اور سرکاری ہسپتالوں کے آٹ پیشنٹس ڈپارٹمنٹس (او پی ڈیز)بھی بند رہے۔دھرنے کے سبب مسافروں بالخصوص طالبعلموں کو ان کے تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔حکومت بلوچستان نے غیر معمولی مہنگائی کے باوجود اپنے ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا۔بلوچستان ایمپلائیز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے ترجمان نے کہا کہ ان کے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا، صوبائی حکومت ہمارے مطالبات کی منظوری کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرے کیوں کہ ہمیں ان کی یقین دہانی پر اعتبار نہیں ہے۔دوسری جانب بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے احتجاج کو غیر ضروری قرار دیا کیوں کہ ملازمین کو پہلے کی ہی تنخواہوں کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کروادی گئی ہے۔لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملازمین کے الانس میں اضافے سے انکار نہیں کیا ہے۔یاد رہے کہ احتجاج سے ایک روز قبل حکومت بلوچستان نے تمام عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے کے لیے دفعہ 144 فوری طور پر نافذ العمل کردی تھی۔صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے پر احتجاجی دھرنے کے اعلان کے پیشِ نظر لگائی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں