طلباء و طالبات پر فیسوں کا اضافی بوجھ تو ڈالا گیا ہے ،بی ایس او
اسٹڈی سرکل میں ناصر بلوچ ثناہ بلوچ وسیم بلوچ فہد بلوچ سمیت ممبران نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اس موقعے پر شرکاء نے کہا کہ جامعہ بلوچستان ،تعلیم سیاست و سماجی شعور بیدار کرنے کا مرکز رہی یے بلوچ قومی سیاست میں جامعہ بلوچستان کے طلباء و اساتذہ کرام کے پرمغز سیاسی و عملی کردار کو نفی نہیں کی جاسکتی لیکن مخصوص سوچ کی بنا پر جامعہ بلوچستان کو ہر دور میں ایک نئے مشکل کا شکار بناکر یہاں پر تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کی سازش کی جاتی رہی یے حالیہ مالی بحران ہو یا یونیورسٹی میں سیاسی قدغن اور طاقت کا استعمال ایک ہی سلسلے کے مختلف سازشی پہلووں کا حصہ ہے گذشتہ کئی عرصے سے یونیورسٹی میں وسائل کو تعمیرات و بے معنی پراجیکٹس پر خرچ کرکے مخصوص طبقے کو معاشی و زاتی فوائد پہنچائے گئے لیکن یونیورسٹی تاحال گرانٹس و احتجاج کے زریعے تنخواوں کے حصول کے لئے چل رہی ہے طلباء و طالبات پر فیسوں کا اضافی بوجھ تو ڈالا گیا لیکن یونیورسٹی میں پالیسی و پراگرمنگ کی فقدان و کرپشن کی وجہ سے کوئی ایسے اقدامات نہیں کئے جاسکے جسکے تحت یونیورسٹی کو مسائل سے نکال کر خودمختیار معاشی پلان دی جاسکے ایسے پروگرامز کے لئے کیمپس بنائے گئے جوکہ کوئٹہ میں موجودگی کے تحت مین کیمپس میں قابل عمل ہوسکتے تھے یونیورسٹی کے وسائل کے زاتی جاگیر سمجھ کر تجربات کئے گئے اب ادارہ اس نہج تک پہنچ چکی ہے جسکے تحت ادارے کے ملازمین تنخواوں سے محروم طلباء و طالبات کے لئے اسٹدی ٹور اسپورٹس ویک و یونیورسٹی میگزین سمیت کوئی قابل عمل داد کام نہیں کی جاسکی نہ ہی ریسرچ و دیگر زرائع کو ادارے کے بہتری کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ بحث ومباحثہ و تنقیدی سوچ کو پروانے چڑھانے پر بزور طاقت قدغن لگائی گئی ادارہ مکمل طور پر معاشی زبوں حالی تعلیمی عدم توجعی کا شکار ہے جبکہ بلاک 1 و 2 بوائز ہاسٹل کو گرانے کے لئے خطیر رقم مختص کی گئی یے تاکہ دوسرے طریقے سے کرپشن کو آگے بڑھایا جاسکے بی ایس او جامعہ بلوچستان کے حوالے جلد لائحہ عمل طے کریگی ۔


