پنجگور،گرینڈ الائنس کی کال پر سی پیک شاہراہ بلاک کر کے احتجاج

پنجگور ( نامہ نگار )بلوچستان ایمپلائز اینڈ گرینڈ الائنس کی کال پر بلوچستان بھر کی طرح پنجگور میں سی پیک شاہراہ کو اپنے مطالبات کے حق یں بند کرکے شدید احتجاج کیا گیا.احتجاجی ریلی پنجگور ماڈل سے ہوتا ہوا سی پیک چودہ چوک تک ایک جلسہ کی شکل اختیار کر گیا ریلی کے شرکا میں مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہاں اور ملازمین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی. سخت گرمی کے باوجود ملازمین سی پیک کو بند کرکے دھرنا دیا.سی پیک کو مکمل طور پر بند کرکے ٹریفک کو معطل کردیا گیا.دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور ملازمین کے یونین نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کو اس سخت گرمی میں مجبور کردیا گیا ہےکہ وہ اپنی سکول اور دوسرے اداروں سے اپنی ڈیوٹی چھوڈ کر یہاں دھرنادیں.معاشرے میں بسنے والے دیگر افراد کی طرح ملازمین کے بھی معاشی معاملات ہوتے ہیں. ملازمین کے بھی بچے ہیں اور اُن کے بچوں کو تعلیم صحت اور دیگر سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے .دھرنے سے بلوچستان ایمپلائز اینڈ گرینڈ غ کے ضلعی سربراہ حاجی فدا احمد بلوچ نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر رحمت صالح بلوچ بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر واجہ جہانزیب بلوچ ،مرکزی جوائنٹ سیکریٹری میر نزیر احمد بلوچ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما پھلین بلوچ ضلعی صدر کفایت اللہ بلوچ،جمیعت علمااسلام کے ضلعی جنرل سیکریٹری حاجی عبدالعزیز بلوچ ،جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مفتی صفی اللہ،بی این پی عوامی کے جنرل سیکریٹری ظفر بختیار، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے شاہ حُسین آغا. عظیم جان گچکی ، پیرامیڈیکس کے سابقہ جنرل سیکریٹری محمد اعظم بلوچ اور دیگر نےکہا کہ عوام کی جان ومال کی حفاظت کرنا ہماری زمہ داری ہے اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران کسی بھی مسافر اور گزرنے کو ازیت نہیں دی جائے گی.ملازمین کے جائز حقوق کی تحفظ ہم سب کی زمہ داری یے. انہوں نے کہا کہ اس ملک میں دیگر طبقات کی طرح ملازمین بھی اس ملک کے بننے سے لے کر ابھی تک مسائل کا شکار ہیں.ملازمین مظلوم ہیں اور مظلوم طبقے سے ہماری یکجہتی جاری رہے گی.وزیر اعلی بلوچستان یہی کہتے ہوئے اپنے آپ کو بری الزمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اُن کے پاس ملازمین کو دینے پیسے نہیں ہیں کہ اُن کی تنخواہ میں اضافہ کریں لیکن دوسری جانب وزیر اعلی اور اُن کی پوری ٹیم کی عیاشیوں کیلئے رقم موجود ہے کہ اُن کیلئے قیمتی گاڈیاں خریدیں اور اُن کی عیاشیوں کیلئے فنڈز جاری کر سکیں.مسلط شدہ حکمران کبھی بھی عوام کے مشکلات کا کوئی فکر نہیں.بلوچستان کے وسائل کو تو بے دردی سے لوٹا جارہا ہے اور جنوب و مشرق کے نام پر بلوچستان کو تقسیم کیا جا کیا جارہا ہے لیکن یہی نام نہاد حکمران جماعت فنڈز نہ ہونے کارونارو رہے ہیں.بلوچستان میں ہے کوئی ایسا طبقہ کہ اس وقت سراپااحتجاج نہ ہو .جب تک بلوچستان میں یونین بحال نہیں ہونگے تواُسی وقت تک ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے.انہوں نے کہا کہ یہ قانون اور آئین اُن افراد کے لئے بنایا گیا ہے جو مظلوم اور محنت کش ہیں اور یہ اُن پر اپلائی کئے جاتے ہیں. طاقتور اور من پسند افراد کو ان سے کوئی سروکار نہیں. ملازم طبقہ کو معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل ہونا چاہیے تھا لیکن اُن کی اہمیت کومکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے. کسے بھی ملازم کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے. آج اس سخت دھوپ میں مجبوری کی حالت میں ملازم کھڑے ہیں.ہم پر امن ہیں اور پرامن طریقے سے اپنی احتجاج کو رکارڈ کرائیں گے.ملازم کش حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور تعلیم دشمن حکومت کے خلاف کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں