نجی تعلیمی اداروں کا ملک گیر لانگ مارچ آج ڈی چوک اسلام آباد میں ہوگا

اسلام آباد:آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے تحت تعلیمی اداروں کی طویل بندش، ہزاروں اساتذہ کی بے روزگاری،چائیلڈ لیبر میں اضافہ،سکول مالکان کی معاشی بدحالی اور حکومت کی جانب سے ریلیف پیکج کی فراہمی میں مسلسل تاخیر کے خلاف ملک گیر لانگ مارچ آج(جمعرات کو) ڈی چوک اسلام آباد میں ہوگا،لانگ مارچ کی تیاریاں مکمل جبکہ بلوچستان،سندھ سے قافلے روانہ ہوگئے ہیں، کے پی کے اور پنجاب سے جمعرات کی صبح احتجاجی قافلے روانہ ہونگے جو براستہ جی ٹی روڈ دن گیارہ بجے ڈی چوک پہنچیں کے مطابق لانگ مارچ میں،نجی تعلیمی اداروں کی ملک گیر ایسوسی ایشنز، تاجر تنظیمیں، سول سوسائٹی، پک ڈراپ سروس،سٹیشنری شاپس، والدین،اساتذہ اور طلبا و طالبات کی کثیر تعداد شرکت کرے گی۔تفصیلات کے مطابق آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے تحت تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش اور تعطیلات میں مزید اضافہ کے خلاف اعلان کردہ لانگ مارچ آج بروزجمعرات8اپریل دن گیارہ بجے ڈی چوک پر پہنچے گا، لانگ مارچ کے لیے انتظامیہ کو آگاہ کردیاگیاہے جبکہ منتظمین کے مطابق تمام ترتیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، اس دوران بلوچستان اور صوبہ سندھ سے نجی تعلیمی اداروں کی ایسوسی ایشنز کے قافلے بدھ کی شام کوروانہ ہوچکے ہیں جبکہ کے پی کے اور پنجاب سے لانگ مارچ کے قافلے جمعرات کی علی الصبح لاہور سے روانہ ہونگے جو براستہ موٹروے اور جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچیں گے، اس دوران گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ،جہلم، گجرخان سے دیگر قافلے ساتھ مل جائیں گے،اسی طرح راولپنڈی سے بڑا قافلہ مری روڈ کے راستہ فیض آباد سے گزر کر ڈی چوک پہنچے گا۔کے پی کے سے آنے والے قافلہ میں سوات، مردان، صوابی،نوشہرہ و دیگر شہروں کے قافلے شامل ہونگے جو موٹروے کے راستے براستہ چھبیس نمبر چونگی اسلام آباد پہنچیں گے۔آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ملک ابرار حسین نے دیگر قائدین کے ہمراہ جلسہ گاہ کی جگہ کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیاہے۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کاکہنا تھاکہ لانگ مارچ انتہائی مجبوری میں کیا جارہاہے بطور استاد ان کا یہ شوق نہیں ہے نہ کی کوئی سیاسی ایجنڈہ ہے،حکومت کی مسلسل وعدہ خلافی اور ریلیف کی بجائے تعلیمی اداروں کی بندش میں اضافہ کردیا گیاہے جس سے ہزاروں سکول مکمل بند، اساتذہ اور دیگرمعاون ملازمین بے روزگار،ہزاروں گھروں کے چولہے بجھنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی طورپر بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔انہوں نے واضح کیاکہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا ہر صورت جاری رہے گا۔ایک سوال کے جواب میں ملک ابرار حسین نے کہاکہ کورونا ایک وبا ہے جس سے انکار نہیں ہے لیکن اس وبا سے بچاو کے جو طریقے عالمی سطح پر رائج ہیں ہم ان پر عمل پیرا ہوکر تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن حکمرانوں کو شاید نسل نو کی تعلیم سے کوئی غرض ہی نہیں ہے اس لیے مجبورا ً احتجاج کا راستہ اختیار کیاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں