کورونا وبا کے دوران گھریلو تشدد کے عنصر میں اضافہ ہے، ماہ جبین شیران
کوئٹہ :صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے وومن ڈویلپمنٹ حکومت بلوچستان ماہ جبیں شیران نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران گھریلو خواتین پر تشدد کے عنصر میں اضافہ ہواہے۔خواتین کی عزت واحترام کرکے ہی ہم ایک اچھے معاشرے کو جنم اور ترقی کی حقیقی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایڈوکیسی اینڈ سوشل ایڈوانسمنٹ سوسائٹی پاکستان اساس پی کے کی جانب سے پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ پی پی اے ایف کے تعاون سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا موضوع کرونا وائرس کے وبا کے دوران گھریلو خواتین پر تشدد میں اضافہ تھا۔ اس موقع پر تقریب میں سرکاری اداروں،غیر سرکاری تنظیموں، پی پی اے ایف کے پارٹنر اداروں،یواین ڈی پی،یو این ایچ سی آر، مرسی کور پاکستان اور بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ تقریب میں اساس پی کے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر وطن یار خلجی نے شرکا کو ویلکم کہا اور اساس پی کے اور پی پی اے ایف کے اس مہم کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا اس مہم میں کوئٹہ اور ژوب میں کمیونٹی سیشنز کا اہتمام کیا گیا جبکہ ایف ایم ریڈیو کمپین بھی جاری ہے۔مہ جبین شیران نے کہا کہ خواتین کے حوالے سے ھمیں اپنے مائنڈ سیٹ کو بدلنا ہوگا عورت کو تشدد و بے توقیری نہیں بلکہ معاشرے میں عزت واحترام چائیے خواتین کو زندگی کے ھر شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے حکومت سمیت تمام افراد اور اداروں کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ عورتوں کی ترقی کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ آج اس صدی میں بھی بلوچستان کی عورت انتہائی پسماندہ اور ظلم و تشدد کا شکار ہے جو عورت کے ساتھ بے انصافی ہے۔مہ جبین شیران نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیراعلی بلوچستان میر جام کمال خان کی قیادت میں پرعزم ہے کہ بلوچستان کی خواتین کے ساتھ یہ بے انصافی تشدد اور زیادتی کا خاتمہ ہو اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے حکومت بھرپور اور عملی اقدامات اٹھا رھی ہے۔یہ پہلی حکومت ہے جو خواتین کے مسائل پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔خواتین کو وراثت میں حق دینے کے لئے حکومت جلد قانون لائیگی اور جو قوانین بنائے گئے ہیں ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لئے انڈو منٹ فنڈ بھی قائم کیا جارھا ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی بلوچستان کے لائزن اسسٹنٹ امیر محمد ترین ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں اساس پی کے اور پی پی اے ایف کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس اھم ترین موضوع پر یہ سیمینار منعقد کیا اس کے دوررس اثرات ضرور مرتب ہونگے تاھم ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ خواتین پر تشدد کے خاتمے اور ان کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ خواتین کو زندگی کے ھر شعبے میں آگے لانے کی کوششیں مسلسل جاری رکھنی چاہیے کیونکہ تبدیلی کے لئے مسلسل جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت نے یقینی طور پر سابقہ حکومتوں کی نسبت خواتین کے لئے عملی طور پر بہت اقدامات کئے ہیں۔اور ھمارا وژن یہی ہے کہ خواتین کو بھی ترقی یافتہ بنایا جائے اور ان پر ھرقسم کے تشدد کا خاتمہ ہو۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی جانب سے ڈاکٹر ثبینہ نے کہا یہ حقیقت ہے کہ کرونا وائرس کے دوران خواتین پر سب سے زیادہ دبا آیا اور انہیں مشکل ترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔اور خواتین کی صحت بھی اس وجہ سے متاثر ہوئی جبکہ دوسری جانب خواتین کو مردوں کی جانب سے سخت رویوں کا بھی سامنا رھا۔ایسے مواقع پر ھمیں خواتین اور بچوں کا خاص خیال رکھنا چائیے۔ نیشنل کمیشن فار سٹیٹس آن وومن کی ممبر اور بی آر ایس پی کی جینڈر ایکسپرٹ فاطمہ خان ننگیال نے کہا کہ خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کاخاتمہ حکومت اور سول سوسائٹی دونوں کی ذمہ داری ہے ہمیں بلوچستان میں خواتین کی حالت زار پر توجہ دینی ہوگی ہماری خواتین آج بھی زیادتیوں کی شکار ہیں اور انہیں بنیادی حقوق فراہم نہیں کئے جارہے ہیں۔بلوچستان کی خواتین میں بھرپور صلاحیت موجود ہے لہذا انہیں آگے بڑھنے کے مواقع ملنی چائیے فاطمہ خان ننگیال نے کہا کہ بدقسمتی سے ھمارے ھاں قوانین تو بنتے ہیں مگر ان قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے۔ تقریب میں عورت فانڈیشن کی جانب کرونا وائرس کے دوران ایک سال میں بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات کی رپورٹ پیش کی گئی اور عورت فانڈیشن کی نصرت جہاں نے کہا عورت فانڈیشن بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے خاتمے اور برابری کے حقوق کے لئے سرگرم عمل ہے ہم اس بھی جذبہ پروجیکٹ کے تحت اسی مقصد اور خواتین کو سیاسی میدان میں آگے لانے کے لئے کام کررہے ہیں بلوچستان سائیکالوجسٹ ایسوسی ایشن کے صدر میر بہرام لہڑی نے کہا کہ کرونا وائرس کی صورتحال میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں اور ان پر تشدد کے رجحان میں اضافہ بھی ہوا ہے۔خواتین سب سے زیادہ نفسیاتی مسائل کا شکار رہی ہیں۔


