تربت میں لائبریری کا بندش طلباء کو تعلیم سے دور رکھنے کی پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں،بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں تربت لائبریری کی بندش کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تربت لائبریری کو بند کرنا بلوچ طلباء کو تعلیم سے دور رکھنے کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ تربت بلوچستان کے بڑے شہروں میں شمار ہے جہاں کثیر تعداد میں بلوچ طلباء و طالبات پڑھ رہے ہیں لیکن یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ چار مہینوں سے تربت لائبریری کو بند کیا گیا ہے۔ جس سے طلباء کی پڑھائی اثر انداز ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لائبریری کی بندش سے طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور لائبریری کے بغیر پڑھائی کو جاری رکھنا مشکل ہے۔ پورے تربت شہر میں یہ واحد لائبریری ہے جہاں کثیر تعداد میں طلباء یہاں آکر پڑھتے ہیں۔ لیکن چار مہینوں سے لائبریری کو بلاجواز بند کیا گیا ہے۔ یہ انتظامیہ کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ طلباء کے درپیش مسائل پر توجہ دیکر لائبریری کو کھول دے تاکہ وہ اپنی پڑھائی کو جاری کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تربت لائبریری کو بند کرنے سے نہ صرف تربت یونیورسٹی کے طلباء کی پڑھائی اثرانداز ہو رہا ہے بلکہ اسکول اور کالج سمیت دیگر سینٹرز کے طلباء کو پریشانی کا سامنا ہے۔ تعلیم حاصل کرنا انسان کا بنیاد حق ہے لیکن بدبختی سے بلوچستان کے زیادہ تر دیہی علاقوں میں تعلیمی ادارے بند ہیں اور وہاں کے مقیم طلباء کو انکا تعلیمی حق نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں لائبریری کی بندش کے خلاف بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم انکی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ لائبریری کو طلباء کیلئے کھول دے تاکہ وہ اپنی پڑھائی کو معمول کے مطابق جاری کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں