بلوچستان بھر کے نجی تعلیمی اداروں نے حکومتی فیصلے کو مسترد کر دیا
کوئٹہ:بلوچستان بھر کے نجی تعلیمی اداروں کے لیے کام کرنے والے ایسوسی ایشنز نے تعلیمی اداروں کی بندش کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور تعلیمی اداروں کی تقدس کی پاہمالی کے خلاف مشترکہ طور پر اجتماعی آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیاان خیالات کا گزشتہ روز کوئٹہ میں تمام ایسوسی ایشنز کا مشترکہ اجلاس میں کیا جو زیر صدارت حاجی سلیم ناصر منعقد ہوا اجلاس میں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن بلوچستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن پروگریسو پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن بلوچستان اقر سکولز ایسوسی ایشن اکیڈیمز کے رہنماوں نے شرکت کیں اجلاس سے نذر بڑیچ جعفر خان کاکڑ ملک رشید کاکڑ، حضرت علی کوثر،گلزار احمد کمالزی،حفیظ لانگو جعفر تیارو دیگر رہنماوں نے خطاب کیا اجلاس میں مرکزی وصوبائی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی بندش کو تعلیم دشمن اقدام قرار دیتے ہوے کہا کہ گذشتہ 15ماہ تعلیمی ادارے بند کیے گئے حالانکہ پوری دنیا میں تعلیمی ادارے فعال ہیں پاکستان اس کے برعکس اقدامات کر رہی ہیں پورہ پاکستان کھلا ہے اور تعلیمی ادارے بند کیے گئے جو ایک عالمی سازش کا حصہ ہے جس سے ہمارے مستقبل کو مذید تاریک کیا جارہا ہیں اجلاس میں صوبائی حکومت کے نائب صوبیدار ترجمان کی کی نجی تعلیمی اداروں کے خلاف نازیبا الفاظ کی سخت مذمت کرتے ہوے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی نوکری کرے جس کے لیے تنخواہ لیتے ہیں تعلیمی ادارے کی تقدس کا خیال رکھے اجلاس میں تمام اداروں کو تاکید کی گہی ہے کہ وہ ایس او پیز کا مکمل خیال رکھے اجلاس میں مختلف علاقوں کے لیے کمیٹیاں بنای گہی جو کسی بھی قسم کی صورتحال و مسلے کے حل کے لیے کام کرے گی۔


