حکومت فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنیکی قراداد سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے،اپوزیشن
اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ حکومت فرانس کے سفیر ملک بدر کرنیکی قراداد سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے قراداد پرائیویٹ ممبر بل کی بجائے حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش پیش کی جائے اور پوری اسمبلی ممبران کو اس قراداد پر کھل کر بولنے کی اجازت دی جائے ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ کے رہنماشاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، جمیعت علمائے اسلام کے مولانا اسعد محمود نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنمااحسن اقبال نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی میں آئے ہی نہیں جبکہ ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن کے کسی بھی فرد کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی حکومت نے جو قرارداد پیش کی اس کو ایوان کی کارروائی کے ایجنڈے سے بھی ہٹا دیا پورے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے حکومت نے اس حوالے سے بھی ہمیں کوئی جواب نہیں دیا اس قرار داد کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے ڈپٹی سپیکر نے آج ناموس رسالت کی اعداد کے معاملے پر ہمیں بولنے نہیں دیا آج ناموس رسالت کی قرارداد کو حکومت نے ایجنڈے سے نکال دیا اس معاملے کو التواکا شکار کرنے کے لیے حکومت نے ایک کمیٹی بنا دی ہے ہم نے وزیر اعظم سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایوان میں آ کر بتائیں آج حکومت نے اجلاس برخاست کروا کر راہ فرار اختیار کر لی ہم نے حکومت سے استفسار کیا تھا کہ اسکی آفیشل پالیسی کیا ہے کیونکہ قرارداد نجی ممبر نے پیش کی تھی ہم ابصار عالم پر قاتلانہ حملے کو بھی زیر بحث لانا چاہتے تھے موجودہ حکومت کے دور میں آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اگر کوئی صحافی دباو قبول نہ کرے تو اس کو نشانہ بنایا جاتا ہے تیسرا مسئلہ ہم یہ اٹھانا چاہتے تھے کہ کوئی میں ہمارے چینی دوستوں کی موجودگی میں دہشت گردی کی کاروائی ہوئی یہ حکومت کی شدید نا اہلی ہے اور سی پیک کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے حکومت نے سیکیورٹی اداروں کو دہشتگردی کے خلاف کروائی کے بجائے مسلم لیگ ن کے خلاف کاروائیوں پر مامور کر رکھا ہے گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے اس حکومت کی ترجیح دہشت گردی سے نمبٹنا نہیں ن لیگ کے خلاف مقدمات بنوانا ہے آج پھر حکومت نے ناموس رسالت کی قرارداد کے بجائے وقفہ سوالات کو موقع دیا حکومت نے ہمارے اور قوم کے جذبات سے کھیلا ہے حکومت اجلاس برخاست کرنے کے بجائے جاری رکھے تاکہ ہر ممبر اس اہم معاملے پر رائے دے سکےمیڈیا سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا اسعد محمود نے کہا کہ حکومتی نے ایک پرائیویٹ ممبر کے زریعے قرارداد پیش کی حکومت نے کہا کہ انھوں نے معائدہ پورا کر دیاہے حکومت نے بین الاقوامی دنیا کو بتایا کہ یہ حکومتی بل نہیں اب حکومت قوم کو برا رہی ہے کہ ہم نے معائدہ پورا کر دیا جبکہ بین الاقوامی کو کہا جاتا ہے ہمارا قرارداد سے کوئی تعلق نہیں ہمیں نہیں معلوم وزیر اعظم قوم کو دھوکہ ہیں یا بین الاقوامی برادی کو ایوان میں اگر ہم ناموس رسالت کے مسئلے پر بات نہیں کر سکتے تو بیٹھنے کا کیا فائدہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو اس معاملے پر ہنگامی اجلاس بلا کر معاملے پر غور کرنا چاہیےاسلام آباد (آئی این پی) پپیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ آغا رفیع اللہ کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پریشانی اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں بات نہیں کرنے دی حکومت عجلت میں اجلاس بلایا عجیب و غریب قسم کی قرارداد لائی گئی ہم قرارداد پر بات کرنا چاھتے تھے تحریک لبیک کے ساتھ کیا مذاکرات ہوئے کس طرح تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیا گیا تحریک لبیک اور پولیس والے ہمارے بچے شہید ہوئے حکومت جان بوجھ کر حالات کو خراب کررہی ہے وزیراعظم سارے سین سے غائب ہیں حکومت کا مقصد سب بے وقوف بناناہے پاکستان پیپلز پارٹی پر شان رسول پر کوئی سوال نہیں کرسکتا ہم نے شام رسول کا دفاع کیا ہے ہم نے بھی گوگل سے توہین آمیز خاکے ہٹوائے یوٹیوب کو پاکستان پر پابندی عائد کی تھی۔


