جسٹس عیسیٰ کیس کا فیصلہ،وزیرقانون استعفیٰ دیں،ساجد ترین
بلوچستان ہائیکورٹ بار کے سابق صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کی نظرثانی درخواست میں معزز سپریم کورٹ کے فیصلے نے یہ ثابت کردیا کہ اعلی عدالت اب بھی کسی حد تک اپنے فیصلے لینے میں آزاد ہے۔
سینئر وکیل ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ نہ صرف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ یا ان کی اہلیہ کی جیت ہے بلکہ ان تمام لوگوں کی جیت ہے جو حقیقی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔
فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ وفاقی حکومت نے جو ریفرنس بنایا تھا وہ بدنیتی اور جعلی الزامات کے علاوہ کچھ نہیں تھا جس کے بعد وفاقی وزیر قانون کو اخلاقی طور پر اپنے عہدے سے استعفی دے دینا چاہئے
بلوچستان کے عوام ان مشکل اوقات میں ہمیشہ جسٹس قاضی کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور ان کے لئے آواز اٹھائی ہے بالخصوص بلوچستان کے وکلاء
ساجد ترین نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جسٹس قاضی بلوچستان کے عوام کو مایوس نہیں کریں گے اور اپنے قلم اور فیصلوں کے ذریعے عوام کو انصاف دلانے کی پوری کوشش کریں گے۔
عدالتیں اس ملک کے عوام کے لئے انصاف کا آخری آپشن ہیں اور جب انہیں عدالتوں سے بھی انصاف نہیں ملتا ہے تو پھر نظام تباہی کی طرف جاتا ہے
ہمیں امید ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ بحیثیت مستقبل کے چیف جسٹس پاکستان اس معاشرے کے کمزور لوگوں بالخصوص بلوچستان کے عوام کو انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
خواہ وہ قاضی فائز عیسیٰ ہو یا کوئی دوسرا جج جو ایمانداری کے ساتھ انصاف اور قانون کی حقیقی حکمرانی کے لئے کام کرے بلوچستان کے وکلاء نے ہمیشہ ان کے لئے آواز اٹھائی ہے


