یورپی پارلیمنٹ‘پاکستان مخالف قرارداد منظور

حکومت کے خدشات درست نکلے،یورپی پارلیمنٹ میں فرانس کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف قرار داد منظورکر لی، اس کے علاوہ پاکستان کو دیئے گئے جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر نظر ثانی کی قرار داد بھی منظور کر لی۔ یہ اقدام پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والے فرانس مخالف واقعات کی بناء پر کیا گیا۔قرار داد میں بعض مقدمات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو پاکستان میں اقلیت کے خلاف توہین رسالت کے الزام پر قائم کئے گئے تھے۔قرار داد میں ان مقدمات کو ذاتی رنجشوں کے سبب دائر کرنا بیان کیا گیا ہے۔قرار داد میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے تمام اسلامی ملکوں کے ساتھ مل کر اسلامو فوبیا کے خاتمے اور ہولو کاسٹ جیسا رویہ اپنانے کی مجوزہ مہم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس مہم کو انتہا پسندوں کی حمایت کہا گیا ہے۔پاکستان نے یورپی پارلیمنٹ میں توہین رسالت کے حوالے سے منظور کی گئی قرارداد پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے عدالتی نظام اور قوانین سے متعلق غیر ضروری تبصرہ قابل افسوس ہے،پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت، فعال سول سوسائٹی، آزاد میڈیا اور خود مختار عدلیہ موجود ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے رد عمل میں مزید کہا:”پاکستان اور مسلم دنیا میں توہین مذہب کے قوانین مذہبی حساسیت کے حامل ہیں، یورپی پارلیمنٹ کا طرز عمل زمینی حقائق کے بر عکس ہے۔پاکستان اپنے شہریوں کے حقوق کے بلا امتیاز تحفظ کے لئے پرعزم ہے۔ہمیں اپنی اقلیتوں پر فخر ہے، پاکستان میں اقلیتوں کو آئین کے مطابق بنیادی انسانی حقوق اور مکمل آزادی حاصل ہے اور کسی خلاف ورزی کی صورت میں عدالتی، انتظامی میکنزم موجودہے۔۔۔۔۔۔ یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان مخالف قرارداد کی بلا تاخیر منظوری اورپاکستان کو دیئے گئے جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر نظر ثانی کی سفارش اس حقیقت کا مظہر ہے کہ مغربی اقوام کی سوچ اور رویہ پاکستانی عوام کی سوچ اور طرز عمل سے مطابقت نہیں رکھتے۔اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر اگر پاکستان میں کوئی احتجاج کیا جاتا ہے تو اس کا اثر یورپی ممالک اور ان کے قانون ساز اداروں کو ہرگز متأثر نہیں کر سکتا۔احتجاج اور دھرنوں سے اگر ہم یورپی اقوام سے منوا سکتے تو برسوں پہلے یہ کام ہو چکا ہوتا، 1988میں سلمان رشدی کیSatanic Versesچھپی تھی۔ایران نے امریکہ کو سب سے بڑاشیطان کہا، پھر اسی”شیطان“ سے اقتصادی،تجارتی، سماجی معاہدے کئے۔یاد رہے پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمان اس ہلاکت کی طرف لے جانے والی جذباتی کیفیت سے اس وقت تک نہیں نکل سکتے جب تک وہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق اپنی فکری اصلاح نہیں کرتے۔انہیں ہر قسم کی ذہنی و فکری تنگ نظری سے نجات صرف قرآن کی منور آیات دلاسکتی ہیں۔ گی۔انہیں چاہیئے کہ سورۃ البقرۃ آیت62کو توجہ سے پڑھیں:
(ترجمہ): ”یقینا ایمان والے اور وہ یہودی، اور نصاریٰ اور صابی(ستارہ پرست)جو اَللہ اور یوم الآخر پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے اعمال صالح ہیں؛ان لوگوں کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، اور انہیں نہ خوف ہوگا،نہ ہی وہ غمگین ہوں گے“۔
اس کے ساتھ سورۃ آل عمران کی آیت113اور114بھی پڑھیں:ترجمہ: ”تمام اہلِ کتاب ایک جیسے نہیں، ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو راتوں کو قیام کرتے ہیں، اور سجدہ کرتے ہیں“ (یعنی اَللہ کی صلوٰۃ قائم کرتے ہیں)۔؛ اَللہ اور یومِ الآخرپر ایمان رکھتے ہیں،معروف اعمال کا حکم دیتے ہیں اور ممنوعہ کاموں سے روکتے ہیں،اور اعمالِ خیر کی طرف دوڑتے ہیں (پہل کرتے ہیں)یہی لوگ صالحین میں شامل ہیں“۔
مسلمانوں کو سب سے پہلے اپنی فکری اصلاح کرنا ہوگی۔جیسے ہی فکری اصلاح ہوگی ان کا کردار قرآنی فکر کے تابع ہوجائے گا۔ اَللہ کا دین قرآن ہے۔سوال یہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھرکے مسلمان قرآن کی اتباع سے کیوں دور بھاگتے ہیں؟کیا مسلمان قرآن کو اَللہ کی نازل کردہ کتاب نہیں مانتے؟ واضح رہے:کسی کتاب کو ماننے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ کوئی شخص اپنی زبان سے کہہ دے:”میں قرآن کو اَللہ کی نازل کردہ کتاب مانتا ہوں!“، مگر زندگی بھر قرآن کی ایک آ یت پر عمل نہ کرے۔اَللہ نے ایسے رویہ کو سخت ناپسند کیا ہے کہ انسان منہ سے کہے اور پھراپنے کہے پر عمل نہ کرے(سورۃ الصّف آیت:2،3)۔صرف منہ سے کہہ دینا کافی ہوتا تو آج پاکستان کے حکمران کشکول اٹھائے دنیا بھر سے قرضوں کی بھیک نہ مانگ رہے ہوتے۔ہنگری جیسے چھوٹے ملک سے سرمایہ کاری کی التجائیں کرتے دکھائی نہ دیتے۔پاکستان کی سیاسی اور معاشی تباہی کی بنیادی وجہ یہ رہی ہے کہ پاکستان کے آئین کو زبان سے مانا گیا اور اس پر کبھی عمل نہیں کیا گیا۔بار بار اسے منسوخ کیا گیا،برسوں معطل رکھا گیا۔کبھی یہ دعویٰ کیا گیا:”یہ چند صفحات کی کتاب ہی تو ہے، جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں“۔کوئی اس حاکم اعلیٰ سے یہ پوچھنے کی جرأت نہ کر سکا:
”کیا آپ کے خیال میں آئین کی حیثیت معمولی کتاب جیسی ہوتی ہے، جس کا جی چاہے
معطل کردے، منسوخ کردے،پھاڑ دے؟“
اس لئے کہ ان دنوں چوراہوں پر ٹکٹکی لگا کر ماہرین سے کوڑے لگوائے جاتے تھے۔مجمع یہ مناظر دیکھا کرتا تھا۔تاریخ نے ہمیشہ یہی سمجھایا ہے:۔۔۔۔آئین اور قرآن عام کتاب نہیں، دونوں تقدیس کا تقاضہ کرتی ہیں،انہیں نہ پھاڑا جا سکتا اور نہ ہی معطل کیا جا نا ممکن ہے۔یہ ایسی کتابیں ان کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک سطر پر عمل کیا جاتا ہے۔ اپنی مرضی کے معنے نہیں پہنائے جاسکتے۔۔۔ورنہ دین فرقوں تقسیم ہوجاتا ہے اور ملک دولخت ہوجاتا ہے۔مسلم امہ نے صدیوں پہلے قرآن کی اتباع ترک کر دی، فرقوں میں بٹی ہوئی ہے،ایک فرقہ دوسرے فرقے کو انتہائی بے دردی سے قتل کر رہا ہے۔ دیکھ لیں؛ایران ایک فرقے کا نمائندہ ہے اور سعودی عرب دوسر ے فرقے کا نمائندہ ہے، دونوں ایک دوسرے پر براہِ راست نہ سہی بالواسطہ بمباری کر رہے ہیں۔اس تکلیف دہ صورت حال سے نجات صرف اور صرف قرآن پر من و عن عمل دلا سکتا۔ اور پاکستان کی سلامتی اور استحکام پاکستان کے آئین پر حرفاً بحرفاًعمل کئے بغیر نہیں مل سکتی!

اپنا تبصرہ بھیجیں