ترکی میں داعش کا افغان فوجی رہنما باسم گرفتار
انقرہ:ایک دہشت گرد گروپ کے فوجی ڈھانچے کی مبینہ طورپر قیادت کرنے والے، باسم کے خفیہ نام سے معروف ایک افغان شہری کو استنبول میں گرفتار کرلیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق پولیس نے ایک بیان میں بتایا کہ دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ کے مبینہ عسکری سربراہ کو ترکی میں گرفتار کیا گیا ہے۔باسم کے خفیہ نام سے معروف گرفتار کیے جانے والے افغان شہری کو اسلامک اسٹیٹ کے سابق سربراہ ابوبکر البغدادی کا دایاں ہاتھ کہا جا تا ہے۔ پولیس کے مطابق باسم کو استنبول کے ایک نواحی علاقے سے گرفتار کیا گیا جب وہ ایک جعلی پاسپورٹ پر سفر کر رہے تھے۔بتایا جاتا ہے کہ دسمبر 2017 میں شام اور عراق میں دہشت گرد گروپ کے خلاف کارروائیواں کے چند ماہ بعد سے ہی باسم غائب ہو گئے تھے۔ترکی میڈیا نے گرفتار کیے گئے ایک گنجے اور داڑھی والے شخص کی تصویر شائع کی ہے جو ہلکے رنگ کا کوٹ پہنے ہوئے ہے۔ اسی کے ساتھ اسی شخص کی ایک دوسری تصویر بھی شائع کی ہے جس میں اس کے کافی بڑے بڑے بال اور لمبی داڑھی ہے۔ یہ شخص ایک فوجی لباس میں ہے اور ہاتھوں میں تلوار لہرا رہا ہے۔باسم پر شام اور عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے لیے تربیتی کیمپ منعقد کرنے نیز اس کی فیصلہ ساز کونسل کے لیے کام کرنے کا بھی الزام ہے۔نیشنل انٹلیجنس آرگنائزیشن اور استنبول پولیس فورس کی مشترکہ کارروائی کے بعد باسم کو گرفتار کیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔


