کوئٹہ میں ایگل فورس کے ہاتھوں میر فیضان جتک کا قتل قابل افسوس اور قابل مذمت عمل ہے،ناصر زہری بلوچ

کوئٹہ، بی ایس او کے مرکزی سنٹرل کمیٹی کے ممبر ناصر بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بے گناہ بلوچ طالب علم کوئٹہ کے رہائشی میر فیضان جان جتک کی قتل ریاست کے تمام محافظوں کے منہ پہ تمانچہ ہے آے روز بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کو قتل کر کے شہید کرنا یہ واضع کر رہی ہے کہ یہ ریاست 73 سالوں سے بلوچ سے بلوچ ہونے کا انتقام لے رہی ہے پچھلے کئی سالوں سے سازش کے تحت بلوچ نسل کشی کی جارہی ہے دنیا میں کہیں بھی سننے کو نہیں ملے گا نوجوان شہید ہوا ہو پر بلوچستان دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں باپ اپنے نوجوان بیٹھے کو کندھا دے کر دفن کرتا ہے اس ریاست میں بلوچ کا خون اتنا سستا ہے ہوا ہے کہ مختلف طریقوں سے اس پر تجربے کیے جاتے ہیں ہمارے محافظ ہمارے قاتل بن کے کبھی وطن کلیے جذباتی ہونے کا بہانہ بنا کے شہید کرتےہے تو کبھی بچوں کے سامنے اسکی ماں کو اس سے ہمیشہ کلیے جدا کی جاتی ہے اب ظلم کی انتہا یہاں تک پہنچی کہ سیدھی راہ چلتے ہوے بلوچ کو بھی اپنی مرضی سے قتل کر کے شہید کرو،
انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی سے مطالبہ نہیں کرتے کہ شہید فیضان بلوچ کے قاتلوں کو گرفتار کر کے قانونی کاروائی کی جائیں ہم بلوچستانی عوام سے مطالبہ اور اپیل کرتے ہیں وہ ایسے ظالم جابر قوتوں کے خلاف کھڑے ہو کے آواز بلند کریں اور قاتلوں کو پکڑ کر سرعام پھانسی دیں تا کہ کل کو پھر کسی اور فیضان کے والدین اپنے کندھوں پہ اپنی لخت جگر کی لاش نہ اٹھائیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں