گریڈ ایک تا 20کے لئے نئے سروس رولز بنائے ہیں، سردار یار محمد رند

کوئٹہ: صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ انہوں نے بلوچستان میں تعلیم کی بہتری کے لئے پارٹی قائد عمران خان کے وژن کے مطابق ہر ممکن کوشش کی ہے، 14ماہ کے دوران صوبے میں تعلیم کی بہتری کے لئے تاریخ ساز کام کئے،4173اساتذہ اور 2 2 46نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررنامے جاری کرنے کے علاوہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سال کے دوران 20گریڈ کے 39پروفیسرز کی آسامیاں تخلیق کی ہیں، محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن کے گریڈ ایک تا 20کے لئے نئے سروس رولز بنائے اور بلوچستان کے لئے ایک نیا پانچ سالہ تعلیمی منصوبہ بنادیا ہے جس سے صوبے میں تعلیم کے شعبے میں بہتری آئے گی، نئے تعلیمی منصوبے کی بدولت گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن (جی پی ای) نے بلوچستان میں تعلیمی صورتحال کو بہتر کرنے کے حوالے سے 20ملین ڈالر کی خطیر رقم مختص کی ہے جبکہ یورپی یونین نے بھی 18ملین یورو فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے،ہر ضلع میں ایک سرکاری بوائز ہائی سکول کا درجہ بلند کرکے انہیں سینٹر آف ایکسلنس (ریزیڈنشل کالجز)بنائے جانے کا پروگرام ہے جہاں بی آر سی اور کیڈٹ کالجز کی طرز پر بہترین سہولیات میسر ہوں گی، اسی طرح ہر ڈویژن کی سطح پر گرلز کیڈٹ کالج بنانے جارہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کوئٹہ میں اپنے 14ماہ کی کارکردگی سے متعلق منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ا س موقع پر ان کے ہمراہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، سیکرٹری سیکنڈری ایجوکیشن شیر خان بازئی، رباب حمید درانی و دیگر حکام بھی موجود تھے۔ سردار یار محمد رند کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی 14ماہ کی کارکردگی بتانے کا مقصد یہی ہے کہ کل کوئی نہ کہہ کہ سردار یار محمد رند کی کارکردگی اچھی نہ تھی اور وہ چاہتے تھے کہ اپنی 14ماہ کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے تعلیم کی بہتری کیلئے قائد عمران خان کے وژن کے مطابق ہر ممکن کوشش کی ہے، ہم ایک سسٹم بناکر جارہے ہیں تاکہ ہمارے بعد محکمہ تعلیم ناکام نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ اگرپچاس فیصد بھی صوبے کی تعلیم پر کام کیا جائے تو نمایاں بہتری آنی ہے۔ سردار یار محمد رند کا کہنا تھا کہ 2014-15کے بعد سیکنڈری ایجوکیشن میں اساتذہ کی بھرتی نہیں ہوئی جبکہ ان کے دور میں اب تک میرٹ کی بنیاد پر4173اساتذہ اور 2246نان ٹیچنگ اسٹاف کو تقررنامے جاری ہوچکے ہیں بلکہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 2149 اساتذہ کی تقرری آخری مراحل میں ہے اس کے علاوہ اب تک 4سو 19ایس ایس ٹی جنرل فی میل بی17کو کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر تقرر نامے جاری کئے جاچکے ہیں جبکہ 14سو 52ایس ایس ایس ٹی جنرل، سائنس و ٹیک میل اور فی میل گریڈ بی 17کی سفارشات محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن کو کمیشن سے مل چکا ہے جس کو حکام بالا کی منظوری کے بعد تقرر نامے جاری کئے جائیں گے جس سے سرکاری اسکولوں میں اسٹاف کی کمی کا مسئلہ کسی حد تک حل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے محکمہ تعلیم میں سفارش کلچر کو ختم کردیا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ حق حقدار تک پہنچے، ماضی میں محکمہ تعلیم میں 5ہزار ملازمین کی دوبارہ ٹیسٹ لینے کے لئے انہوں نے 3سمریاں وزیراعلیٰ کو بھیجی مگر انہیں کہا گیا کہ انہی 5ہزار لوگوں کو بھرتی کریں۔ سردار یار محمد رند نے کہا کہ انہوں نے سی ٹی ایس پی کے ملازمین کے مسئلے کو بھی بہتر انداز میں حل کیا۔اس کے علاوہ محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن کے گریڈ ایک تا 20 کے لئے نئے سروس رولز بنائے ہیں جس کے نتیجے میں 13آفیسران کو گریڈ 20میں، 47کو گریڈ 19اور 73کو گریڈ 18میں ترقی دی گئی ہے جس کی ماضی میں کوئی نذیر نہیں ملتی۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے بلوچستان کیلئے بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر پلان 2020-25کے نام سے ایک نیا پانچ سالہ تعلیمی منصوبہ بنایا ہے جس کی حکومت بلوچستان نے منظوری بھی دیدی ہے اس سے پہلے صوبائی حکومت نے پہلا 5سالہ تعلیمی منصوبہ 2013میں بنایا۔ پہلی تعلیمی منصوبے کے نفاذ کے حوالے سے گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن (جی پی ای) نے حکومت کو 34ملین ڈالرز اور یورپی یونین نے 20ملین یوروز کی خطیر رقم فراہم کی تھی۔ گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کے تعاون سے حکومت نے 725نئے پرائمری اسکولز قائم کئے اور ایک سو 20سکولوں کو اپ گریڈ کرکے مڈل اور ہائی کا درجہ دیا تاکہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں تعلیم تک رسائی ممکن بنایا جاسکے، یورپی یونین کی طرف سے فراہم کردہ فنڈز سے سو پرائمری سکولز اپ گریڈ اور 9سو غیر فعال کمروں کو ضروری مرمت کرکے قابل استعمال بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے پانچ سالہ تعلیمی منصوبے پر عمل درآمد سے بلوچستان میں تعلیمی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی اور جو اصلاحات ہم نے گزشتہ تعلیمی منصوبے کے ذریعے شروع کئے تھے ان کو بھی جاری رکھ کر مکمل کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے تعلیمی منصوبے کی بدولت گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن نے بلوچستان میں تعلیمی صورتحال کو بہتر کرنے کے حوالے سے 20ملین ڈالر کی خطیر رقم مختص کی ہے اور ساتھ ہی یورپی یونین نے بھی 18ملین یورو فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ سردار یار محمد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے یونیسف کے تعاون سے اے ایل پی مڈل کی سطح کا پروگرام تشکیل دیا ہے تاکہ سکولوں سے باہر رہ جانے والے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے اور سکولوں سے باہر رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی آسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن یونیسف اور بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروجیکٹ کے تعاون سے صوبے کے تمام سرکاری ہائی سکولوں میں ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کے لئے ضروری سامان فراہم کرچکا ہے اس کے علاوہ ہم نے ایس او پیز پر تقریباً تمام کلسٹرہیڈز کے ساتھ ساتھ سینئر اساتذہ کو بھی تربیت فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کا پروگرام ہے کہ ہر ضلع کی سطح پر موجود ایک سرکاری بوائز ہائی سکول کا درجہ بلند کرکے انہیں سینٹر آف ایکسیلنس بنایا جائے جو کہ ریزیڈنشل کالج ہوگا جہاں پر بی آر سی اور کیڈٹ کالجز کی طرز پر تمام تر سہولیات میسرہوں گی اس کے علاوہ ڈویژنل سطح پر ایک گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کا بھی درجہ بلند کرکے سینٹر آف ایکسلنس بنایا جائے اور گرلز کیڈٹ کالجز بنائے جانے کا بھی منصوبہ ہے، گرلز کیڈٹ کالجز کے مجوزہ منصوبے کیلئے فوج بھرپور معاونت کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نئے مالی سال کی پی ایس ڈی پی کے لئے تجاویز دی ہیں کہ تمام سرکاری اسکولوں میں بنیادی تعلیمی سہولیات فراہم ہو،تاکہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی کو مزید بہتر کیا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ حال ہی میں حکومت کینیڈا کے تعاون سے محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن پائیٹ کے ذریعے 2025پرائمری اور مڈل سکولوں کے اساتذہ کو 12روزہ تربیت فراہم کرچکا ہے تاکہ یہ اساتذہ جدید طریقہ ہائے تدریس کے ذریعے اپنے بچوں کو پڑھاسکیں۔ حکومت بلوچستان اساتذہ کی پیشہ وارانہ تربیت کے لئے بھی 10کروڑ روپے فراہم کرے گی اس کے علاوہ حکومت بلوچستان وفاقی حکومت کی تعاون سے 3ارب 42کروڑ 20روپے کی رقم سے صوبے کے 8اضلاع میں 4سالہ بلوچستان سکول نوٹریشن پروگرام شروع کررہی ہے تاکہ پرائمری سکول کے عمر کے بچوں کی غذائی ضروریات پورا کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 15اضلاع جو کسی طرح باقی اضلاع سے پیچھے رہ گئے ہیں ASPIREپروجیکٹ کے تحت ان اضلاع میں تعلیمی بہتری کے لئے ایک جامعہ پروگرام تشکیل دیا گیا ہے۔ ورلڈ بینک کے تعاون سے صوبے کے 4اضلاع میں تعلیمی بہتری کے حوالے سے ایک پروجیکٹ پر کام ہورہا ہے جس کے لئے ورلڈ بینک 18ملین ڈالرز محکمہ سیکنڈری ایجوکیشن حکومت بلوچستان کو فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے طلباء چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کی تعلیم کے حصول کے لئے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹس کے صدر سے بات کی ہے اور ان کو بروری روڈ پر محکمہ تعلیم کی بلڈنگ 10سال کے لئے دیدی گئی ہے جلد ہی یہاں تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے طلباء کی آسانی کے لئے اسناد کی تصدیق کے لئے آن لائن سسٹم متعارف کرادیا گیا ہے جس سے اب تک 5ہزار سے زائد طلباء نے اپنے تعلیمی اسناد کی آن لائن تصدیق کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے امسال 20گریڈ میں 39پروفیسرز کی آسامیاں تخلیق کی گئی جو کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے عرصے کے دوران پروفیسرز کی اتنی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں اور پہلی مرتبہ 20گرلز کالجز کی پرنسپلز کو سرکاری گاڑیاں مہیا کی گئی ہیں۔ ہم نے کالجز میں مانیٹرنگ سسٹم کا آغاز اور ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر ز تعینات کردیئے ہیں جس سے کالجز کی بہتر نگرانی ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ کالجز میں اساتذہ کی کمی پورا کرنے کے لئے فی کالج 15لاکھ روپے مہیا کئے گئے ہیں جس سے لولکل مارکیٹ سے عارضی بنیادوں پر اساتذہ کی خدمات حاصل کی جائیں گی، اسی طرح سائنسی شعور اجاگر کرنے کے لئے سائنسی نمائش کو از سرنو شروع کیا گیا ہے اس مقصد کے لئے ہر کالج کو 10لاکھ روپے بجٹ میں دیے گئے ہیں۔ اساتذہ کی تربیت کے لئے بلوچستان اکیڈمی فار کالج ٹیچرز کو فعال کیا گیا ہے رواں سال کے پہلے 3مہینوں میں 379اساتذہ اور عملے کو تربیت دی گئی ہے۔ معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے مالی سال 2020-21میں تین نئے ریذیڈنشل کالجز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جن کی لاگت 15سو ملین ہے اس کے علاوہ 3نئے پولی ٹیکنک کالجز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس میں بلوچستان کے نوجوانوں کو تربیت فراہم کرکے سی پیک جیسے منصوبے کے ضروریات کو پورا کیا جائے گا اس سلسلے میں چائنیز حکام سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 22کالجز میں لیبارٹریز کے قیام کے لئے 3سو 74ملین مختص روپے کئے ہیں اسی طرح کالجز میں اساتذہ کی کمی پورا کرنے کے لئے 822لیکچرارز کی آسامیاں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مشتہر کی گئی جو کہ آخری مراحل میں ہے اور اگست 2021تک تمام لیکچررز کی تعیناتی کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام انٹرکالجز کو ڈگری کا درجہ دیا جارہا ہے اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج کوئٹہ کینٹ میں تمام سہولیات سے آراستہ ڈیجیٹل لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے لئے 50ملین روپے مختص کئے گئے تھے اور دوسری مرحلے میں مزید 10کالجز میں ڈیجیٹل لائبریریز کا قیام عمل میں لایا جارہاہے جس کے لئے 100ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ BETVETAایکٹ اسمبلی میں زیر بحث ہے جبکہ ایجوکیشن کاونسل ایکٹ کابینہ کی منظوری کے بعد اس وقت اسمبلی بھیجنے کے مراحل میں ہے اسی طرح ماڈل یونیورسٹی ایکٹ بنایا گیا ہے اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی میں زیر غور ہے۔ کالجز میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے Remunerationپالیسی بنائی گئی ہے کالجز میں طلباء کے لئے ہاسٹل الاٹمنٹ کو شفاف بنانے کے لئے ہاسٹل الاٹمنٹ پالیسی بنائی گئی ہے۔ دوسرے صوبوں میں میرٹ کی سطح پر مختص نشستوں کے تحت طلباء کے انتخاب کی پالیسی میں اصلاحات کی گئی ہے جبکہ کویڈ 19کے دوران تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لئے سمارٹ کریکولم لاگو کردیا گیا۔ صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ انہوں نے بلوچستان میں پھل دار پودا لگادیا ہے وہ کل رہے یا نہ رہے امید ہے کہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن اس کارکردگی کو جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کو سیاسی سوالات کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ آج کا پریس کانفرنس صرف ان کی 14ماہ کی کارکردگی سے متعلق ہے اور وہ بعد میں سیاسی پریس کانفرنس کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں