95فیصد زمینوں کی سٹلمنٹ کا مطلب یہ نہیں کہ زمینیں سرکار کی ہیں، مجلس قائمہ برائے بورڈ آف ریونیو
کوئٹہ:مجلس قائمہ برائے بورڈ آف ریونیو کا اجلاس چیئرمین مجلس سید احسان شاہ کی زیر صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ارکان میر یونس عزیز زہری، ملک نصیر احمد شاہوانی،ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی، نصراللہ زیرے، سلیم احمد کھوسہ، اصغر خان ترین کے علاوہ ایس ایم بی آر، سیکرٹری اسمبلی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بلوچستان کے بلا پیمودہ زمینوں کی پالیسی اور لینڑریفارمز مرتب کرنے پر غور و خوض کیا گیا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی سیداحسان شاہ نے کہاکہ جن بلا پیمودہ زمینوں کا دعویدار موجود ہو تو وہ زمینیں سرکار کی نہیں ہو سکتی۔ سپریم کورٹ میں اس مسئلہ کے اسٹیٹس کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔ چیئرمین نے ایڈووکیٹ جنرل کو کمیٹی کو بریفنگ کیلئے طلب کیا اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ سیٹلمنٹ کا کام ٹیکنیکل ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر سیٹلمنٹ آفیسر کام ہی نہیں جانتے محکمہ اپنے آفیسران کی کیپیسٹی بلڈنگ کے لئے کام کریں ایک بندہ تمام کام کرتے ہوئے دیکھائی دیتا ہے۔ یونس عزیز زہری نے کہاکہ جب بھی سرکار کو میرے حلقہ میں زمین کی ضرورت ہوئی ہے ہم نے قبائل سے زمین لے کر سرکار کو دی ہے،یونیورسٹی، میڈیکل کالجز کے لئے زمینیں قبائل ہی نے دیں ہیں خضدار میں ڈی سی نے 41 لوگوں کو نوٹسز جاری کئیے ہیں جب کہ وہاں لوگ نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے رہ رہے ہیں۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کام ہو رہا ہے خضدار میں 1974 کے کتونیاں پڑی ہوئیں ہیں انہوں نے کہاکہ مالکان کے پاس انکے زمینوں کی کتونی موجود ہیں لیکن محکمہ نے اپنے ریکارڈز جلا دئیے ہیں اور لوگوں کو تنگ کررہے ہیں میرے آبائی علاقہ تحصیل زہری سیٹل نہیں ہیں اس پر ہم صدیوں سے رہ رہے ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ کوئی ڈی سی مجھ سے رنجش کی بنا پر وہ میرے گھر کو ہی نہ گرادیں۔ ملک نصیر احمد شاہوانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 95 فیصد زمینوں کی سیٹلمنٹ نہیں ہوئی ہیں اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ تمام زمین سرکار کی ہیں سیٹلمنٹ حکومتوں کا کام ہے، حکومت ان کو سنجیدہ لیں حکومت جن زمینوں کا دعوی کرتی ہے ان زمینوں کو سنبھال نہیں سکتی ہم اسکول ہسپتال کالج کے مقاصد کے لئے اپنی ایسی زمینیں بالکل دینگے بلوچستان ہم سب کا ہے اس پر قانون سازی ہونی چاہئے۔ ملک نصیر شاہوانی نے کہاکہ بجائے یہ مسائل فساد کی طرف جائیں حکومت کو بروقت فیصلہ کرنا چاہئے۔نصراللہ زیرے نے کہاکہ معزز عدالت کا فیصلہ اسمبلی میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ اس پر کمیٹی بیٹھے گی لیکن افسوس کمیٹی کے بیٹھنے سے قبل حکومت سپریم کورٹ چلی گئی۔ اس سے کمیٹی اور ممبران کا استحقاق مجروع ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حکومت کو فیصلے کرنے چاہئیں کوئٹہ میں مختلف قبائل کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے اس سے قبل بھی ہم نے یہ مسلہ اٹھایا۔ انتظار کئیے بغیر ان زمینوں کی سیٹلمنٹ ہونی چاہئیے۔آنے والی کمیٹی کے اجلاس میں کوئٹہ کے سیٹلمنٹ آفیسر کو بھی بلایا جائے اور کوئٹہ کے سیٹلمنٹ کے حوالے سے ہمیں بریفنگ دیں۔ جس پر ایم ایم بی آر نے بتایاکہ آنے والے اجلاس میں ایس او کوئٹہ بھی کمیٹی کو بریفنگ دے گا۔ اصغر خان ترین نے کہاکہ جن زمینوں پر لوگ آباد ہیں ایک کاغذ کی بنیاد پر راتوں رات ان پر جھگڑا ہوتا ہے بلاپیمودہ زمینوں پر جو قبائل آباد ہیں ان کو بلا کر افہام و تفہیم کے ساتھ یہ مسلہ حل کیا جائے جن زمینوں پر قبائل آباد ہیں اور زمینداری کر رہے ہیں یہ انہی کا حق ہے، اگر زمینوں کے مسائل سرکار حل نہیں کرتا تو اس سے قتل و غارت گری جنم لے سکتی ہے اب تک ضلعوں کے حدود کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم کھوسہ نے کہاکہ حکومت کے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی المیہ یہ ہے کہ ہمارے صوبے میں کوئی سیٹلمنٹ نہیں ہوئی ہے،باہمی مشاورت سے لوگوں نے کچھ جگہوں کیلئے سرکار کو زمینیں دی ہیں محکمہ کو عملے کی کمی کا سامناہے،محکمہ کو اس سے قبل صحیح ڈھیل نہیں کیاگیا میں خود زمیندار ہوں بحیثیت زمیندار کسی زمیندار کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی،کمیٹی کے ساتھ ہیں جو فیصلہ عوام کے مفاد میں ہے وہی فیصلہ کرینگے،چیئرمین نے مناسب تجویز دی ہے اس تجویز پر ہم کام کر رہے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ ٹیکنیکل لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔


